Post Top Ad

Pakistan Writers Forum
ٹرانس جینڈر قانون کی شرعی حیثیت اور اس کے سماجی اثرات
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے: ''انھیں اپنے گھروں سے نکال دو''۔ وہ کہتے ہیں: چناں چہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو اور عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں کو نکال دیا۔(صحیح بخاری5886)
اس وقت نیشنل میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا پورے ملک میں ٹرانس جینڈر ایکٹ2018(قانون) کے حوالہ سے دو متضاد (مذہبی اور لبرل) بلکہ متحارب طبقات کی بحث عروج پر ہے، لبرل طبقہ اس ایکٹ کی تائید کررہا ہے اور مذہبی/ دینی طبقات اس ایکٹ کو خلاف شرع قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے نظر آتے ہیں۔دراصل یہ ایکٹ 2018 میں قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور ہوا تھا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں جب یہ بل پیش ہواتو دو ممبران ایک جمعیت علمائے اسلام کی محترمہ نعیمہ کشور اور دوسری جماعت اسلامی کی محترمہ سیدہ عائشہ نے دلائل کے ساتھ اس قانون سے اختلاف کیا کہ یہ بل شریعت اسلامیہ کے خلاف ہے، اس لیے علمائے کرام سے رائے طلب کی جائے اور اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کیا جائے لیکن بدقسمتی سے اسمبلی کے آخری سیشن میں،جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی تحلیل کردی گئی، اس بل پہ اسمبلی میں تفصیلی بحث نہ ہوسکی اور نئے الیکشن کا ہنگامہ اور کمپین شروع ہوگئی،اس اجلاس میں باوجود کورم پورا نہ ہونے کے منظور کردیا گیا، اس لیے پاکستانی شہریوں کی توجہ اس قانون کی جانب نہ ہوسکی،نیز اس بل کاٹائٹل معذوروں کے حقوق کے تحفظ کا تھا، اس ٹائٹل کی ہمدردی کے نیچے سارا کچھ چھپ گیا۔
 اس بات سے انکار نہیں کہ خواجہ سرا یا خنثیٰ مشکل پاکستان میں موجود نہیں، موجود ہیں مگر بہت قلیل تعداد میں ہیں، کچھ اصل ہیں، کچھ اتائی (پیشہ ور) ہیں، اور کچھ کو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، اللہ رب العزت نے مرد و عورت دو ہی جنسیں بنائی ہیں تیسری کوئی جنس اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کی ہے۔ یہ خواجہ سرا یا خنثیٰ مشکل دراصل معذور افراد ہیں، جس طرح نابینا معذور ہے کوئی جنس نہیں، بہرہ پیدائشی بہرہ ہے کوئی جنس نہیں، گونگا پیدائشی گونگا ہے کوئی الگ جنس نہیں بلکہ یہ سب مذکورہ معذور افراد ہیں آنکھوں، کان، زبان سے محروم افراد معذور ہیں کوئی الگ جنس نہیں ہاں الگ حیثیت(ٹائٹل) رکھتے ہیں معذور ہیں، اسی طرح خواجہ سرا بھی معذور افراد ہیں کوئی الگ جنس نہیں، ایک صلاحیت اور ایک نعمت سے محروم ہیں بس، اس لیے خواجہ سرا بھی معذورافرادکے دائرہ میں ہیں، کوئی الگ جنس نہیں کہ جسے ایک مستقل جنس قرار دیا جائے۔ان کے بھی حقوق ہیں شریعت بھی ایسے افراد کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے ان کے معاملات پر تفصیلی مباحث ہیں بلکہ بڑے مفصلاً فیصلے بھی موجود ہیں۔
 مذکورہ قانون میں ٹرانس جینڈر جیسی متنازعہ اصطلاح متعارف کروائی گئی نیزٹرانس جینڈر کوایک الگ جنس بناکر پیش کیا گیا، اور ان کے لیے، تحفظ حقوق کا نام دے کر یہ قانون پارلیمنٹ سے عجلت میں منظور کروایا گیا، اصولی غلطی یہ ہے کہ خواجہ سرا کوئی الگ جنس نہیں بلکہ معذور افراد کا ایک ٹائٹل ہے،دوسری بات یہ کہ اس عنوان سے جو قانون سازی کی گئی اسی ٹائٹل کے مغالطے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ نہیں ہوئی حالاں کہ جوں جوں پاکستانیوں نے اس قانون سے واقفیت حاصل کی تو اس بات پہ توجہ مبذول ہوئی کہ یہ ایکٹ تو اسلام سے بغاوت اور خلاف شرع ہے، مذکورہ قانون شریعت کے خلاف ہے تو دستور کے بھی خلاف ہے،کیوں کہ پاکستان کا آئین یہ کہتا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہوگی(دیباچہ) اور یہاں کوئی بھی ایسا قانون پاس نہیں کیا جاسکتا جوقرآن و سنت کے صریح خلاف ہوگا(آرٹیکل 227)، اب اسی موضوع پر گزشتہ کئی روز سے پورے ملک میں بحث ہورہی ہے۔
اس وقت پاکستان میں دینی حلقے اس پہ احتجاج کررہے ہیں کہ یہ قانون شریعت کے خلاف ہے، اسے منسوخ کیا جائے، کالعدم قرارد یا جائے۔ یہ قانون(دفعہ 3) ہر شخص کو یہ حق دیا گیا ہے کہ جو بھی شخص بالغ ہو، وہ NADRA(نادرا) میں درخواست دے کر اپنی جنس خود طے کرسکتا ہے کہ میں مرد ہوں یا عورت اور جو وہ طے کرے گا اپنی ذات کے لیے،NADRA(نادرا) اس بات کا پابند ہے کہ اس کی بتائی گئی جنس کے مطابق اس کا شناختی کارڈ جاری کرے، مثلاً ایک شخص NADRA(نادرا) میں یہ حلفیہ بیان دیتا ہے کہ میں عورت ہوں اب NADRA(نادرا) تحقیق کیے بغیر اسے عورت کا شناختی کارڈ جاری کرے گا اور اسی طرح ہی عورت سے مرد کی برعکس صورت بنتی ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل مذکورہ میں تفصیل موجود ہے کہ NADRA(نادرا) سمیت تمام پاکستانی ادارے پابند ہوں گے کہ اس کو ویسا ہی سمجھا جائے جیسا کہ NADRAمیں بیان حلفی دے کر شناختی کارڈ حاصل کیا گیا ہو۔ یعنی پاکستان میں حالت یہ ہو گی (خدانخواستہ) کڑیاں ورگے منڈے تے منڈیاں ورگیاں کڑیاں ہون گیا، ایتھے سارے پاکستا ن اچ
رب نوں جے بھُل جاؤ گے
ککھاں وانگوں رُل جاؤ گے 
بہت سے دیگر ممالک میں اس نوع کا قانون موجود ہے لیکن ان ممالک میں میڈیکل چیک اپ شرط ہے۔ اگر کوئی مرد یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں عورت ہوں تو اس کا میڈیکل چیک اپ ہوگا اب یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے اورمنطق کے مطابق ہے لیکن اگر خالی دعویٰ پر کہ میں مرد نہیں، عورت ہوں NADRA(نادرا) عورت کا CNIC جاری کرے اور اس کے نتیجے میں تمام قوانین شناختی کارڈ کے مطابق اپلائی ہوں گے حتیٰ کہ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخصNADRA(نادرا)میں اپنے آپ کو عورت رجسٹرڈ کروالیتا ہے جوکہ کوئی مشکل نہیں ہے پھر اگر وہ کسی مرد سے شادی کرتا ہے تو یہ شادی قانوناً درست ہوگی،درحقیقت مرد کی مرد سے شادی ہوگی، صرف ریکارڈ کے فرق کے ساتھ، اسی طرح اگر عورت خود کو مرد لکھوالیتی ہے تو قانوناً مرد کے برابر وراثت میں حصہ دار ہوگی شرعاً ہے یا نہیں لیکن قانوناً ہوگی۔ اسی طرح بے شمار مفاسد ہیں، اس قانون کے۔جوں جوں وقت گزر رہا ہے نت نئے مفاسد سامنے آرہے ہیں۔
 اسی سلسلہ میں دینی حلقوں کی جانب سے دو مطالبات سامنے آرہے ہیں کہ (1) اس وقت سینٹ میں جماعت اسلامی کے سینیٹرجناب مشتاق احمد نے ترمیمی بل پیش کررکھا ہے کہ اس بل میں یہ ترامیم کردی جائیں تو کسی درجہ میں قابلِ قبول ہوسکتا ہے، مثال کے طور پر کوئی آدمی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں عورت ہوں اور محض اس کے دعویٰ پر اسے شناختی کارڈ جاری نہ کیا جائے گا بلکہ میڈیکل چیک اپ کروایا جائے گا، یہ ایک مثال ہے۔ اسی طرح جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے قرارداد پیش کی ہے کہ اس ایکٹ کو منسوخ کیا جائے اور اس کی جگہ متبادل قانون لایا جائے۔ 
اب ہمیں چاہیے کہ ان دونوں سینیٹر حضرات کی ترامیم اور قرارداد کی تائید کریں نیز تمام مکاتب فکر (دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث) کے علمائے کرام اس قانون کے غیر شرعی، غیر دستوری ہونے کے اعلانات کریں اور ملک بھر میں اس منحوس بل کے خلاف مہم چلائیں۔اب یہ ذمہ داری صرف علماء کی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ میڈیکل فورم اور وکلاء فورم سے بھی موقف سامنے آنا چاہیے اور انھیں بھی اس ایکٹ کو منسوخ کروانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اس سے پہلے کہ ہم قوم لوط کے قبیح فعل کی طرح،اللہ کے مبغوض ترین بندے بن جائیں،ہمیں اپنے آپ کو، اپنے معاشرے کو اور آنے والی نسلوں کو اس غلاظت سے بچانا ہے، اٹھیے ہمت کیجئے اور اس قانون کی مزاحمت میں اپنا کردار ادا کیجئے۔

پیام حق

 

انصر خان کھچی

No comments:

Post a Comment