Post Top Ad

تحریر عدم اعتماد ۔تحریر : ڈاکٹر احمد چشتی صاحب

Pakistan Writers Forum

تحریک عد م اعتماد ایک ایسی تحریک ہے جس میں کسی حکومتی عہدیدار یعنی وفاقی وزیر یا وزیراعظم کیخلاف قراردار پیش کی جاتی ہے۔ اگر اپوزیشن کے ووٹ زیادہ ہوتے ہیں تو حکومتی وزیراعظم اپنے عہدے سے برطرف ہوجاتا ہے اور اپوزیشن باہمی اتحاد سے اپنا وزیراعظم لے آتی ہے یا اسمبلی تحلیل ہو جاتی ہے اور دوبارہ الیکشن ہوتے ہیں۔
اگر صوبائی عہدیداروں کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانی ہو تو وہ صوبائی اسمبلیوں میں شروع کی جاتی ہے اور وفاقی عہدیداروں کی تحریک عدم اعتماد ایوان زیریں اور ایوان بالا میں پیش کی جاتی ہے۔تحریک عدم اعتماد اکثر حزب اختلاف یعنی اپوزیشن کی طرف سے پیش کی جاتی ہے ۔ اس تحریک کا مطلب و مقصد یہ ہوتا ہے کہ حکومتی عہدیداران کام کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں یا آئین و قانون کیخلاف کام کر کے ملکی بدنامی کی وجہ بنے ہیں۔
آج کل تحریک عدم اعتماد کی باتیں زبان زد عام ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کے بڑے آپس میں سر جوڑ کر بیٹھتے نظر آ رہے ہیں۔ ماضی میں بھی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پاکستان میں وزرائے اعظم کو ہٹانے کی کوششیں کی گئیں مگر پاکستان میں یہ تحریک کامیاب نہیں ہو سکی۔
1989 میں محترمہ بینظیر بھٹو کیخلاف اور 2006میں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف تحریک اعتماد پیش کی گئی مگر کامیاب نہ ہو سکی۔سابق سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین کیخلاف دو دفعہ اور صادق سنجرانی کے خلاف ایک دفعہ تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی مگر اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا ہوا۔
اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے ایم این ایز کی تعداد 157،ایم کیو ایم6 ،پاکستان مسلم لیگ ق 5،بلوچستان عوامی پارٹی 5،گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 3،عوامی مسلم لیگ 1،اعتماد و رسد کے 6 ہے۔ اعتماد و رسد ویسٹ پارلیمانی نظام طرز پر اقلیتی حکومتوں کیلئے ضروری ہے تا کہ وہ ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں اپنا اقتدار قائم رکھ سکیں۔ اعتماد و رسد کے ممبران قومی اسمبلی کسی حکومت مخالف تحریک کی صورت میں حکومت کو سپورٹ کرتے ہیں یا اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔
حزب اختلاف کے پاس اس وقت 158ایم این ایز ہیں جن میں نون لیگ کے 84، پیپلز پارٹی کے 54،متحدہ مجلس عمل 16،آزاد 3، اور عوامی نیشنل پارٹی کے 1ایم این اے ہیں۔
حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں اگر حکومتی اتحاد جو 178ایم این ایز پر مشتمل ہے میں سے کسی سیاسی جماعت کو اپنے ساتھ ملا لیتی ہیں تو حکومت ختم ہونے کے واضح امکانات ہونگے ۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں میں تجربہ کار سیاستدان موجود ہیں جو حکومت چلانے کا ہنر جانتے ہیں اور اپنے دور حکومت میں ملک پر آئے بحرانوں و مسائل کا بھی سامنا کر چکے ہیں۔اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو کیا نئے انتخابات ہونگے یا یہی اسمبلی نیا وزیراعظم منتخب کرے گی۔ بہرحال تحریک عدم اعتماد ایک خطرناک انتقامی کھیل ہے۔حکومت اور اپوزیشن جب تک ملکی مفادات کیلئے ایک پیج پر مل کر نہیں بیٹھیں گے تب تک ملک کے مسائل حل نہیں ہونگے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی اختلافات بھلا کر ملکی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔جب سے پاکستان بنا ہے تب سے جو اپوزیشن میں ہوتا ہے وہ حکومت کی مخالفت کرتا ہے۔ اگر یہی کھیل جاری رہا تو مسائل حل ہونے کی بجائے مزید گھمبیر ہوتے جائیں گے کیونکہ جو اگلی بار اپوزیشن میں ہو گا وہ بھی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوشش کرتا رہے گا۔ 
تحریک عدم اعتماد


No comments:

Post a Comment