Post Top Ad

September 27, 2022
Pakistan Writers Forum
ٹرانس جینڈر قانون کی شرعی حیثیت اور اس کے سماجی اثرات
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی ہے اور فرمایا ہے: ''انھیں اپنے گھروں سے نکال دو''۔ وہ کہتے ہیں: چناں چہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں کو اور عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں کو نکال دیا۔(صحیح بخاری5886)
اس وقت نیشنل میڈیا ہو یا سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا ہو یا الیکٹرانک میڈیا پورے ملک میں ٹرانس جینڈر ایکٹ2018(قانون) کے حوالہ سے دو متضاد (مذہبی اور لبرل) بلکہ متحارب طبقات کی بحث عروج پر ہے، لبرل طبقہ اس ایکٹ کی تائید کررہا ہے اور مذہبی/ دینی طبقات اس ایکٹ کو خلاف شرع قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے نظر آتے ہیں۔دراصل یہ ایکٹ 2018 میں قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور ہوا تھا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں جب یہ بل پیش ہواتو دو ممبران ایک جمعیت علمائے اسلام کی محترمہ نعیمہ کشور اور دوسری جماعت اسلامی کی محترمہ سیدہ عائشہ نے دلائل کے ساتھ اس قانون سے اختلاف کیا کہ یہ بل شریعت اسلامیہ کے خلاف ہے، اس لیے علمائے کرام سے رائے طلب کی جائے اور اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کیا جائے لیکن بدقسمتی سے اسمبلی کے آخری سیشن میں،جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی تحلیل کردی گئی، اس بل پہ اسمبلی میں تفصیلی بحث نہ ہوسکی اور نئے الیکشن کا ہنگامہ اور کمپین شروع ہوگئی،اس اجلاس میں باوجود کورم پورا نہ ہونے کے منظور کردیا گیا، اس لیے پاکستانی شہریوں کی توجہ اس قانون کی جانب نہ ہوسکی،نیز اس بل کاٹائٹل معذوروں کے حقوق کے تحفظ کا تھا، اس ٹائٹل کی ہمدردی کے نیچے سارا کچھ چھپ گیا۔
 اس بات سے انکار نہیں کہ خواجہ سرا یا خنثیٰ مشکل پاکستان میں موجود نہیں، موجود ہیں مگر بہت قلیل تعداد میں ہیں، کچھ اصل ہیں، کچھ اتائی (پیشہ ور) ہیں، اور کچھ کو بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، اللہ رب العزت نے مرد و عورت دو ہی جنسیں بنائی ہیں تیسری کوئی جنس اللہ تعالیٰ نے پیدا نہیں کی ہے۔ یہ خواجہ سرا یا خنثیٰ مشکل دراصل معذور افراد ہیں، جس طرح نابینا معذور ہے کوئی جنس نہیں، بہرہ پیدائشی بہرہ ہے کوئی جنس نہیں، گونگا پیدائشی گونگا ہے کوئی الگ جنس نہیں بلکہ یہ سب مذکورہ معذور افراد ہیں آنکھوں، کان، زبان سے محروم افراد معذور ہیں کوئی الگ جنس نہیں ہاں الگ حیثیت(ٹائٹل) رکھتے ہیں معذور ہیں، اسی طرح خواجہ سرا بھی معذور افراد ہیں کوئی الگ جنس نہیں، ایک صلاحیت اور ایک نعمت سے محروم ہیں بس، اس لیے خواجہ سرا بھی معذورافرادکے دائرہ میں ہیں، کوئی الگ جنس نہیں کہ جسے ایک مستقل جنس قرار دیا جائے۔ان کے بھی حقوق ہیں شریعت بھی ایسے افراد کے حقوق کا تحفظ کرتی ہے ان کے معاملات پر تفصیلی مباحث ہیں بلکہ بڑے مفصلاً فیصلے بھی موجود ہیں۔
 مذکورہ قانون میں ٹرانس جینڈر جیسی متنازعہ اصطلاح متعارف کروائی گئی نیزٹرانس جینڈر کوایک الگ جنس بناکر پیش کیا گیا، اور ان کے لیے، تحفظ حقوق کا نام دے کر یہ قانون پارلیمنٹ سے عجلت میں منظور کروایا گیا، اصولی غلطی یہ ہے کہ خواجہ سرا کوئی الگ جنس نہیں بلکہ معذور افراد کا ایک ٹائٹل ہے،دوسری بات یہ کہ اس عنوان سے جو قانون سازی کی گئی اسی ٹائٹل کے مغالطے کی وجہ سے لوگوں کی توجہ نہیں ہوئی حالاں کہ جوں جوں پاکستانیوں نے اس قانون سے واقفیت حاصل کی تو اس بات پہ توجہ مبذول ہوئی کہ یہ ایکٹ تو اسلام سے بغاوت اور خلاف شرع ہے، مذکورہ قانون شریعت کے خلاف ہے تو دستور کے بھی خلاف ہے،کیوں کہ پاکستان کا آئین یہ کہتا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہوگی(دیباچہ) اور یہاں کوئی بھی ایسا قانون پاس نہیں کیا جاسکتا جوقرآن و سنت کے صریح خلاف ہوگا(آرٹیکل 227)، اب اسی موضوع پر گزشتہ کئی روز سے پورے ملک میں بحث ہورہی ہے۔
اس وقت پاکستان میں دینی حلقے اس پہ احتجاج کررہے ہیں کہ یہ قانون شریعت کے خلاف ہے، اسے منسوخ کیا جائے، کالعدم قرارد یا جائے۔ یہ قانون(دفعہ 3) ہر شخص کو یہ حق دیا گیا ہے کہ جو بھی شخص بالغ ہو، وہ NADRA(نادرا) میں درخواست دے کر اپنی جنس خود طے کرسکتا ہے کہ میں مرد ہوں یا عورت اور جو وہ طے کرے گا اپنی ذات کے لیے،NADRA(نادرا) اس بات کا پابند ہے کہ اس کی بتائی گئی جنس کے مطابق اس کا شناختی کارڈ جاری کرے، مثلاً ایک شخص NADRA(نادرا) میں یہ حلفیہ بیان دیتا ہے کہ میں عورت ہوں اب NADRA(نادرا) تحقیق کیے بغیر اسے عورت کا شناختی کارڈ جاری کرے گا اور اسی طرح ہی عورت سے مرد کی برعکس صورت بنتی ہے۔ اس کے علاوہ آرٹیکل مذکورہ میں تفصیل موجود ہے کہ NADRA(نادرا) سمیت تمام پاکستانی ادارے پابند ہوں گے کہ اس کو ویسا ہی سمجھا جائے جیسا کہ NADRAمیں بیان حلفی دے کر شناختی کارڈ حاصل کیا گیا ہو۔ یعنی پاکستان میں حالت یہ ہو گی (خدانخواستہ) کڑیاں ورگے منڈے تے منڈیاں ورگیاں کڑیاں ہون گیا، ایتھے سارے پاکستا ن اچ
رب نوں جے بھُل جاؤ گے
ککھاں وانگوں رُل جاؤ گے 
بہت سے دیگر ممالک میں اس نوع کا قانون موجود ہے لیکن ان ممالک میں میڈیکل چیک اپ شرط ہے۔ اگر کوئی مرد یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں عورت ہوں تو اس کا میڈیکل چیک اپ ہوگا اب یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے اورمنطق کے مطابق ہے لیکن اگر خالی دعویٰ پر کہ میں مرد نہیں، عورت ہوں NADRA(نادرا) عورت کا CNIC جاری کرے اور اس کے نتیجے میں تمام قوانین شناختی کارڈ کے مطابق اپلائی ہوں گے حتیٰ کہ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کوئی شخصNADRA(نادرا)میں اپنے آپ کو عورت رجسٹرڈ کروالیتا ہے جوکہ کوئی مشکل نہیں ہے پھر اگر وہ کسی مرد سے شادی کرتا ہے تو یہ شادی قانوناً درست ہوگی،درحقیقت مرد کی مرد سے شادی ہوگی، صرف ریکارڈ کے فرق کے ساتھ، اسی طرح اگر عورت خود کو مرد لکھوالیتی ہے تو قانوناً مرد کے برابر وراثت میں حصہ دار ہوگی شرعاً ہے یا نہیں لیکن قانوناً ہوگی۔ اسی طرح بے شمار مفاسد ہیں، اس قانون کے۔جوں جوں وقت گزر رہا ہے نت نئے مفاسد سامنے آرہے ہیں۔
 اسی سلسلہ میں دینی حلقوں کی جانب سے دو مطالبات سامنے آرہے ہیں کہ (1) اس وقت سینٹ میں جماعت اسلامی کے سینیٹرجناب مشتاق احمد نے ترمیمی بل پیش کررکھا ہے کہ اس بل میں یہ ترامیم کردی جائیں تو کسی درجہ میں قابلِ قبول ہوسکتا ہے، مثال کے طور پر کوئی آدمی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں عورت ہوں اور محض اس کے دعویٰ پر اسے شناختی کارڈ جاری نہ کیا جائے گا بلکہ میڈیکل چیک اپ کروایا جائے گا، یہ ایک مثال ہے۔ اسی طرح جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹر مولانا عطاء الرحمن نے قرارداد پیش کی ہے کہ اس ایکٹ کو منسوخ کیا جائے اور اس کی جگہ متبادل قانون لایا جائے۔ 
اب ہمیں چاہیے کہ ان دونوں سینیٹر حضرات کی ترامیم اور قرارداد کی تائید کریں نیز تمام مکاتب فکر (دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث) کے علمائے کرام اس قانون کے غیر شرعی، غیر دستوری ہونے کے اعلانات کریں اور ملک بھر میں اس منحوس بل کے خلاف مہم چلائیں۔اب یہ ذمہ داری صرف علماء کی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ میڈیکل فورم اور وکلاء فورم سے بھی موقف سامنے آنا چاہیے اور انھیں بھی اس ایکٹ کو منسوخ کروانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اس سے پہلے کہ ہم قوم لوط کے قبیح فعل کی طرح،اللہ کے مبغوض ترین بندے بن جائیں،ہمیں اپنے آپ کو، اپنے معاشرے کو اور آنے والی نسلوں کو اس غلاظت سے بچانا ہے، اٹھیے ہمت کیجئے اور اس قانون کی مزاحمت میں اپنا کردار ادا کیجئے۔

پیام حق

 

انصر خان کھچی
September 27, 2022
بابا محمد یحییٰ خان:دُعائے اقبالؒ

بہت دُعائیں کیں اقبال تو نے
مگر اک دُعا کا حاصل کمال ہے
بابامحمد یحییٰ خان دُعائے اقبالؒہیں۔ آپ قدرت اللہ شہاب کے قلم کے امین اورممتاز مفتی کے لاڈلے ہیں۔ آپ کو بابا اشفاق احمد اور ماں جی بانو قدسیہ کے ساتھ روحانی تقرب حاصل ہے۔ ماں جی بانو قدسیہ کو باباجی اپنی ماں جیسی قدرو منزلت دیتے رہے ہیں۔ بابا اشفاق احمد کے وصال کے بعد باباجی،ماں جی کے گھر "داستان رائے" تشریف لے جاتے اور ماں جی کی خدمت میں رہتے جبکہ واصف علی واصف کے ساتھ قلبی و روحانی وابستگی ہے۔مولانا عبدالسلام نیازی دہلوی، ماہر القادری، کرم الٰہی عرف کانواں والی سرکار اور مشہورپامسٹ میر بشیر کے ساتھآپ کا گہرا تعلق رہا ہے۔دنیا کے طول و عرض میں پھیلے ادیب ہوں یا فن کار، بابا جی کے ساتھ ان کے مراسم مثالی ہیں۔ پاکستان کے سینئیر فن کار بابا جی کے فن کے معترف ہیں۔ بابا جی فرماتے ہیں پاکستان میرا میکہ ہے اور ہندوستان میرا سسرال یعنی پاکستان اور ہندوستان میں بابا جی کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔
کشمیر کے پہاڑوں سے ٹکرا، کر وادی کے گلزاروں سے مہکتی ہوئی ہوائیں بادلوں سے سرسراتی ہوئی جب سیالکوٹ پہنچتی ہیں تو یہاں کا ہر ایک شجر جھوم جھوم کر فضا کو خمار آلود کر دیتا ہے۔ یہ روح پرور ماحول بڑے بڑے عارفوں اور درویشوں کو دھیان سے گیان کی منزل تک لے جاتا ہے اور اسی وجہ سے اس علاقے کو مہاتماؤں کی سرزمین کے نام سے بھی بھی یاد کیا جاتا ہے۔اسی مردم خیز شہر میں جوکہ شہر اقبال بھی کہلاتا ہے، آپ 7 ستمبر 1936 کو پیدا ہوئے۔بابا محمد یحییٰ خان دور حاضر کے عظیم صوفی بزرگ، سیاح، فن کاراور اردو کے مشہور و معروف اور سب سے مہنگے مصنف ہیں۔ آپ دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے روحانی سرپرست ہیں۔ بابا جی نے اپنی زندگی میں بہت سے بین الاقوامی سینما گھروں اور اسٹیج شوز وغیرہ میں کام کیا ہے۔بابا جی نے پی ٹی وی پر نشر ہونے والے ڈراموں میں بابا بلھے شاہ، میاں محمد بخش اور بہت سے دوسرے مختلف کردار ادا کیے ہیں۔ بابا جی نے اپنے صوفی افکار کو مختلف کتابوں جیسے پیا رنگ کالا، کاجل کوٹھا، شب دیدہ، من مندر،من مسجد، موم کی مورت، لے بابا ابابیل اور بابا بلیک شیپ کے ذریعے پھیلایا ہے، ان کی تخلیقات کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔آپ کا طرز تحریر اور طرز زیست منفرد بھی ہے اور دل چسپ بھی۔ قاری آپ کی کتاب پڑھتے سمے مسحور ہوجاتا ہے اور دنیا و مافیھا سے بے نیا زبھی۔ بابا جی کی تصنیفات قارئین کو جہان حیرت میں لے جاتی ہیں، انسان کائنات کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے لگتا ہے۔آپ کی کتب قاری کو اپنے حصار میں لے کر جکڑلیتی ہیں اور سحرہ زدہ کردیتی ہیں، اپنی ذات کی نفی اور انسانیت کو فائدہ پہچانا آپ کی ہر کتاب کا درس ہے۔آپ کی کتابیں ادق بھی ہیں اور قاری کے لیے بعض اوقات لغت بھی بے معنی ہوجاتی ہیں، کیو ں کہ الفاظ بھی،آپ کے سامنے دم سادھے موجود ہوتے ہیں کہ نہ جانے کب باباجی نئے لفظ کا اضافہ کردیں۔
 بابا محمد یحییٰ خان رُوحانیت میں ایک اعلیٰ مقام کے حامل بزرگ ہیں۔آپ کو علمِ لدّنی حاصل ہے۔ظاہری تعلیم سے بے بہرہ ہونے کے باوجود اردو، ہندی، پنجابی، انگریزی سمیت سترہ زبانوں پر عبور رکھتے ہیں، آدھی درجن کے قریب اردو اور انگریزی کتب کے مصنف ہیں۔آپ تقریباًساری دنیا گھوم چکے ہیں۔ حضرت علامہ اقبالؒ کو اپنا پیر و مرشد مانتے ہیں۔ ہمیشہ سیاہ لباس پہنے ہیں۔ آج کل آپ لاہور میں رہتے ہیں۔ قیام پاکستان سے قبل برٹش نیشنل بھی ہیں، اس بڑھاپے میں بھی چاک و چوبند اور توانا نظر آتے ہیں۔دنیا کے کسی بھی ایئر پورٹ پر امیگریشن حکام باباجی کو انتظار نہیں کرواتے بلکہ بابا جی، باباجی کہتے ہوئے خوش آمدید کہتے ہیں۔ 
بابا جی محمد یحییٰ خان لنگر خود تیار کرتے ہیں اور تقسیم فرماتے ہیں، جو خوش نصیب آپ کے ہاتھ سے لنگرتناول کرلیتا ہے تو زندگی میں جب چاہے، اس کا ذائقہ محسوس کرسکتا ہے۔مہمان نوازی، باباجی کا امتیازی نشان ہے۔ باباجی اپنے کپڑے خود سلائی کرتے ہیں، اپنی کتابوں کے سرورق خود ڈیزائن کرتے ہیں۔ آپ باکمال خطاط ہیں، بے مثال مصور ہیں، باذوق شاعر ہیں اور دنیا جہان کے فن آپ کے باطن میں پنہاں ہیں۔ جب چاہتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، اپنے فنون سے سامعین، قارئین اور حاضرین کو حیرت زدہ کر دیتے ہیں۔ آپ کی شخصیت کی اتنی جہتیں ہیں کہ مجھ ایسا کم علم اور کج فہم تحریر کرنے سے قاصر ہے۔
جچتا ہے سیاہ رنگ اسے بھی اور مجھے بھی
وہ چاند کسی رات کا، میں راکھ کسی دیئے کی
چوں کہ "بابا"میں 2الف، اور 2 بائے ہیں، اس لیے بابا جی"شب دیدہ "میں لفط ’بابا‘ کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ
"الف اور بائے کے طریق عشق سے ان کے جوہر نکھرے ہوتے ہیں یعنی اویس ؓ اور بلال ؓ کا عشقِ فقر، جذب اور صبر، ان کا صاد و صادق ہوتا ہے۔ الف، مجذوب رسول ﷺ تھا اور بائے، غلامِ رسول ﷺ۔ بس یہی مجذوب و غلام۔ ہم فقیروں، دُرویشوں کے امام۔۔ مجھ غلام نے اسی اشفاق کے الف، اور بانو کی بائے سے مجاز سیکھا۔ الف اور بائے کا صدر، صدق کھوجتے کھوجتے یہ جانا کہ حقیقت، شریعت، معرفت، طریقت اور تصوف کے سارے راستے یہیں سے ہوگزرتے ہیں۔"
 بابا جی نے ڈاکٹر اجمل نیازی (مرحوم)کی میزبانی میں ٹیلی ویژن پروگرام "پنجاب رنگ"میں ایک انٹریو میں اپنے بچپن کے بارے فرمایا کہ
'' میرے والدین سیالکوٹ کے رہنے والے تھے اور ان کے ہاں اولاد نرینہ نہیں تھی اور ان کی عمر بھی کافی ہو چکی تھی۔علامہ اقبالؒ کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات تھے اور بڑی بے تکلفی تھی۔ ایک بار انھوں نے علامہؒ اقبال سے اولاد نرینہ کے لیے دعا کی درخواست کی،حضرت علامہؒ اقبال نے میرے والد سے فرمایا کہ اگر آپ اس بڑھاپے میں اولاد نرینہ چاہتے ہو تو حضرت زکریاؑ کی سنت کے مطابق اس کا نام یحییٰ رکھنا، کیوں کہ حضرت زکریاؑ کو بھی اللہ تعالیٰ نے آخری عمر میں بیٹا عطا فرمایا تھا، جس کا نام انھوں نے یحییٰ ؑ رکھا تھا، اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا عطا فرمائے گا، اس کا نام سنت زکریا ؑ پر یحییٰ رکھنا، میری ولادت پر میرے والدین نے میرا نام بھی یحییٰ رکھا، جب میں چند سال کا تھا تو بہت بیمار ہوگیا اور اتنا کمزور ہوگیا کہ جان کے لالے پڑ گئے، میرے والدین میں سے کسی کو بھی میرے زندہ بچنے کی کوئی امید نہ رہی،ویسے بھی میں پیدائش کے وقت سے ہی بہت کمزور تھا،میری دادی اور دیگر رشتہ داروں نے میرے والد صاحب سے کہا کہ اسے لاہور لے جائیں اور اچھے ڈاکٹر کو دکھائیں،والد صاحب نے کہا کہ ہاں لاہور میں ایک ہی اچھا ڈاکٹر ہے اور مجھے علامہ اقبالؒ کے پاس لے آئے،علامہ اقبالؒ ان دنوں کافی بیمار تھے۔ ان کا گلا بھی ٹھیک نہیں تھا۔جس سے بولنے میں کافی دقت ہوتی تھی اور لوگوں سے ملاقات بھی بند تھی،چوں کہ والد صاحب کے ان سے دیرینہ تعلقات تھے، اس لیے ہمیں ملاقات کی اجازت مل گئی، علامہ اقبالؒ نے مجھے گود میں بٹھایا، پیار کیا اور پھر پاس بٹھا لیا۔ میں نے وہاں کپڑوں میں پیشاب کر دیا تو علّامہؒ صاحب نے ملازم سے فرمایا، اسے کوئی سوکھا کپڑا لا کر دو، تو علی بخش نے علامہ اقبالؒ کی استعمال شدہ چادر جس میں سیاہ رنگ کے خانے بنے ہوئے تھے، لا کر مجھے اوڑھا دی،علّامہؒ صاحب نے والد صاحب سے فرمایا، اللہ خیر کرے گا، اس کے لیے کالے رنگ میں شفا ہے،اس کو کالے رنگ کے کپڑے پہنایا کریں، پھر واقعی اللہ تعالیٰ نے کرم کر دیا اور میں تندرست ہوگیا اور اُس روز سے کالا رنگ میرا پسندیدہ رنگ بن گیا۔"
ہمیں کوئی پہچان نہ پایا قریب سے
کچھ اندھے تھے کچھ اندھیروں میں تھے

پروفیسر اخلاق احمد ساغر


Pakistan Writers Forum
March 17, 2022

ادبی دنیا اور ماجد اکرم ۔ تحریر : پروفیسر زبیر شاہد صاحب

ادبی دنیا اور ماجد اکرم

Pakistan Writers Forum
ادبی دنیا اور ماجد اکرم
 
ماجد اکرم عارفوالا سے ہیں۔ ان کا شمار چوٹی کے شعراء میں ہوتا ہے. میں ماجد اکرم سے عمر میں کافی چھوٹا ہوں اور ماجد اکرم کا احترام میرے لیے اپنے فیملی ممبران کیطرح ہے۔ میں ماجد اکرم کے اشعار کو بہت پسند کرتا ہوں۔ ماجد اکرم صاحب کے اچھے اشعار اور سریلی آواز کی وجہ سے مجھے ان سے دلی لگاؤ ہو گیا۔ ماجد اکرم جب پڑھتے ہیں تو محفل کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ ماجد اکرم ہمیشہ ادبی دوستوں کو متحد ہونے کا درس دیتے ہیں وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کی بات پر زور دیتے ہیں ۔ شہر کے ادبی حلقوں کو یکجا کرنے میں ان کا نمایاں کردار رہا ہے۔ ماجد اکرم ادبی آسمان پہ چمکتا ہوا ستارا ھے جو ایک دن چاند کے سینے پہ کھڑا ہو کر ستاروں کو روشنی بانٹے گا۔ ماجد اکرم کی شاعری سن کر مجھے شوق ہوا کہ شعر کہوں۔ماجد اکرم کے کچھ اشعار حسبِ ذیل ہیں۔۔

بچھڑتے جاتے ہیں رستوں میں ہمسفر میرے
تری تلاش میں نکلا ہوا ہوں گھر میرے

مری اداسی کو اچھا نہیں یہ لگتا ہے
خوشی کی بات کیا کر نہ چارہ گر میرے

اڑانِ حوصلہ کچھ اور بڑھ بھی سکتی ہے
مرے صیاد نے کاٹے جو بال و پر میرے

گزاری عمر کے لمحے یہیں پہ رہتے ہیں
سدا سو شاد رہیں کوچہ و نگر میرے

کبھی تو چھوڑ کے دنیا میں جاؤنگا ماجد
کہ رہتے جان سے پیارے ہیں کچھ ادھر میرے

ایک اور جگہ ماجد اکرم تخیّل کو یوں پرواز دیتے ہیں کہ

تیرے غم اور دل کو ہم نے آج یکجا کردیا
تو نے جیسا چاہا تھا لو ہم نے ویسا کردیا

مثلِ خوشبو کب کسی کے ہاتھ آیا ہے وہ شخص
باتوں باتوں میں مجھے بھی اس نے چلتا کردیا

کیوں یہ کہتے ہو کسی قابل نہیں ہوں میں ترے
اسکی قدرت نے اگر قطرے کو دریا کردیا

شکر ہے اب جاگنا پڑتا نہیں شب بھر مجھے
بے رخی تیری مجھے ہے کچھ تواچھا کردیا

کیسے کوئی اسکے سر الزام آتا دوستو
بن کے جھوٹا میں نے اسکو جب تھا سچا کردیا 

کیا ادا میں کر سکوں گا اس عطا کا شکریہ
مجھکو رسوا کردیا مجھ کو تماشہ کردیا

میں کہاں واقف تھا ماجد پہلے کارِ عشق سے
جیسا مجھ سے ہوسکا ہے الٹا سیدھا کردیا

ماجد اکرم انتہائی درجے کے انسان دوست اور محبِ ادب ہیں ۔ جو ان سے ایک دفعہ ملے ہمیشہ دوبارہ ملنے کا منتظر رہتا ہے۔ وہ محبت اور حسنِ سلوک کو پروان چڑھانے کا درس دیتے ہیں۔ خدا خوفی ان کے دل کا خاصہ ہے۔ 
ماجد اکرم کا اپنے اساتذہ کے بارے میں یہ کہنا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
"لکھنا پڑھنا آیا تو شاعری کا بھی آغاز ہوگیا ہر نئے لکھنے والے کیطرح آڑھی ترچھیں سطریں ہی کھینچتا تھا یونس متین صاحب ، محمود فریدی صاحب اور ظفر اقبال نادر صاحب کا شمار میرے اساتذہ میں ہوتا ھے اِن خوبصورت لوگوں کے قدموں میں بیٹھنے اور ان کی جوتیاں سیدھی کرنے سے یہ فیض حاصل ہوا ۔ اللہ نے اس سفر میں ان لوگوں کو میرا رہنما مقرر کیا اور وہ بہترین رہنما اور استاد ثابت ہوۓ۔ میں اُن کی محبت اور شفقت کا مقروض رہونگا"۔۔۔۔ماجد اکرم 

ماجد اکرم نفیس النفس اور خوش گفتار ہیں۔ مجھے ان کی شاعری میں ایک ایسا درد نظر آتا ہے جو محبت کی تلاوت میں اشکوں کا ایندھن جلا دیتا ہے اور ان اشکوں کی روشنائی ان کے اشعار میں ملتی ہے۔ اللہ تعالی ان کو ہمیشہ خوش رکھےاور وہ اپنے زورِ قلم سے ادب کے موتی بکھیرتے رہیں۔ 
وہ کہتے ہیں ۔۔۔۔

کانچ جیسے ہیں مگر ہے یہی خاصہ انکا
خواب گر ٹوٹیں تو آہٹ نہیں آیا کرتی

غم ہیں لاحق مجھے بہت لیکن
تیری قربت میں بھول جاتا ہوں
March 05, 2022

تحریر عدم اعتماد ۔تحریر : ڈاکٹر احمد چشتی صاحب

Pakistan Writers Forum

تحریک عد م اعتماد ایک ایسی تحریک ہے جس میں کسی حکومتی عہدیدار یعنی وفاقی وزیر یا وزیراعظم کیخلاف قراردار پیش کی جاتی ہے۔ اگر اپوزیشن کے ووٹ زیادہ ہوتے ہیں تو حکومتی وزیراعظم اپنے عہدے سے برطرف ہوجاتا ہے اور اپوزیشن باہمی اتحاد سے اپنا وزیراعظم لے آتی ہے یا اسمبلی تحلیل ہو جاتی ہے اور دوبارہ الیکشن ہوتے ہیں۔
اگر صوبائی عہدیداروں کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانی ہو تو وہ صوبائی اسمبلیوں میں شروع کی جاتی ہے اور وفاقی عہدیداروں کی تحریک عدم اعتماد ایوان زیریں اور ایوان بالا میں پیش کی جاتی ہے۔تحریک عدم اعتماد اکثر حزب اختلاف یعنی اپوزیشن کی طرف سے پیش کی جاتی ہے ۔ اس تحریک کا مطلب و مقصد یہ ہوتا ہے کہ حکومتی عہدیداران کام کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں یا آئین و قانون کیخلاف کام کر کے ملکی بدنامی کی وجہ بنے ہیں۔
آج کل تحریک عدم اعتماد کی باتیں زبان زد عام ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کے بڑے آپس میں سر جوڑ کر بیٹھتے نظر آ رہے ہیں۔ ماضی میں بھی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پاکستان میں وزرائے اعظم کو ہٹانے کی کوششیں کی گئیں مگر پاکستان میں یہ تحریک کامیاب نہیں ہو سکی۔
1989 میں محترمہ بینظیر بھٹو کیخلاف اور 2006میں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف تحریک اعتماد پیش کی گئی مگر کامیاب نہ ہو سکی۔سابق سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین کیخلاف دو دفعہ اور صادق سنجرانی کے خلاف ایک دفعہ تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی مگر اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا ہوا۔
اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے ایم این ایز کی تعداد 157،ایم کیو ایم6 ،پاکستان مسلم لیگ ق 5،بلوچستان عوامی پارٹی 5،گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 3،عوامی مسلم لیگ 1،اعتماد و رسد کے 6 ہے۔ اعتماد و رسد ویسٹ پارلیمانی نظام طرز پر اقلیتی حکومتوں کیلئے ضروری ہے تا کہ وہ ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں اپنا اقتدار قائم رکھ سکیں۔ اعتماد و رسد کے ممبران قومی اسمبلی کسی حکومت مخالف تحریک کی صورت میں حکومت کو سپورٹ کرتے ہیں یا اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔
حزب اختلاف کے پاس اس وقت 158ایم این ایز ہیں جن میں نون لیگ کے 84، پیپلز پارٹی کے 54،متحدہ مجلس عمل 16،آزاد 3، اور عوامی نیشنل پارٹی کے 1ایم این اے ہیں۔
حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں اگر حکومتی اتحاد جو 178ایم این ایز پر مشتمل ہے میں سے کسی سیاسی جماعت کو اپنے ساتھ ملا لیتی ہیں تو حکومت ختم ہونے کے واضح امکانات ہونگے ۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں میں تجربہ کار سیاستدان موجود ہیں جو حکومت چلانے کا ہنر جانتے ہیں اور اپنے دور حکومت میں ملک پر آئے بحرانوں و مسائل کا بھی سامنا کر چکے ہیں۔اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو کیا نئے انتخابات ہونگے یا یہی اسمبلی نیا وزیراعظم منتخب کرے گی۔ بہرحال تحریک عدم اعتماد ایک خطرناک انتقامی کھیل ہے۔حکومت اور اپوزیشن جب تک ملکی مفادات کیلئے ایک پیج پر مل کر نہیں بیٹھیں گے تب تک ملک کے مسائل حل نہیں ہونگے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی اختلافات بھلا کر ملکی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔جب سے پاکستان بنا ہے تب سے جو اپوزیشن میں ہوتا ہے وہ حکومت کی مخالفت کرتا ہے۔ اگر یہی کھیل جاری رہا تو مسائل حل ہونے کی بجائے مزید گھمبیر ہوتے جائیں گے کیونکہ جو اگلی بار اپوزیشن میں ہو گا وہ بھی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوشش کرتا رہے گا۔ 
تحریک عدم اعتماد


March 05, 2022

پاکستان کے وزرائے اعظم (آخری حصہ) تحریر : پروفیسر اخلاق احمد ساغر صاحب

Pakistan Writers Forum
پاکستان کے وزرائے اعظم (آخری حصہ)
بے نظیر بھٹو؛ (21 جون 1953 - 27 دسمبر 2007) ایک پاکستانی سیاست دان تھیں جنھوں نے 2 دسمبر 1988 سے 6 اگست 1990 اور 18 اکتوبر 1993 سے 5 نومبر 1996 تک پاکستان کی 11ویں اور 13ویں وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔نظریاتی طور پر ایک لبرل اور ایک سیکولرسٹ، اس نے 1980 کی دہائی کے اوائل سے لے کر 2007 میں اپنے قتل تک پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی سربراہی کی۔
بے نظیر بھٹو کی پہلی کابینہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ تھی۔ اس نے وزیر خزانہ کا قلم دان اپنے پاس رکھا، اس کی والدہ بغیر قلم دان کے ایک سینئر وزیر کے طور پر، اور اس کے سسر کو پارلیمانی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ انتظامیہ میں شامل زیادہ تر وزرا کو سیاسی تجربہ نھیں تھا۔
اپریل 1989 میں، اپوزیشن جماعتوں نے بے نظیر بھٹو کے خلاف پارلیمانی عدم اعتماد کا ووٹ دیا، لیکن اسے 12 ووٹوں سے شکست ہوئی۔ بے نظیربھٹو نے دعویٰ کیا کہ قومی اسمبلی کے بہت سے ووٹروں کو ان کے خلاف ووٹ دینے کے لیے رشوت دی گئی تھی، اس کے لیے ایک سعودی عالم اسامہ بن لادن نے 10 ملین ڈالر فراہم کیے تھے، جس نے ان کی حکومت کا تختہ الٹنے اور اس کی جگہ اسلامی تھیوکریسی قائم کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ناقدین یہ دعویٰ کرتے رہے کہ عورت کا حکومت کرنا غیر اسلامی ہے، اور اس بنیاد پر پاکستان کو اسلامی تعاون کی بین الاقوامی تنظیم سے معطل کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔
پبلک سیکٹر کی صنعتوں میں کرپشن کی کہانیاں منظر عام پر آنے لگیں جس نے بےنظیربھٹو کی ساکھ کو مجروح کیا۔ 
بے روزگاری اور مزدوروں کی ہڑتالیں ہونے لگیں جس سے ملک کا معاشی پہیہ رک گیا اور جام ہو گیا اور بے نظیر بھٹو صدر کے ساتھ سرد جنگ کی وجہ سے ان مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے۔ 
اگست 1990 میں، غلام اسحاق خان نے آئین کی شق 58 (2b) کے تحت بے نظیربھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ 
انھوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ان کی حکومت کی بدعنوانی اور امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی کی وجہ سے ضروری تھا۔ 
پی پی پی کے سابق رکن غلام مصطفی جتوئی کے زیر کنٹرول نگراں حکومت نے حلف اٹھایا، غلام اسحاق خان نے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔
اکتوبر 1993 کے عام انتخابات میں، پی پی پی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں، حالانکہ وہ 86 نشستوں کے ساتھ واضح اکثریت سے کم رہی۔ نوازشریف کی نئی جماعت پاکستان مسلم لیگ (نواز) 73 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ 
پیپلز پارٹی نے بھٹو کے آبائی صوبے سندھ اور دیہی پنجاب میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جبکہ مسلم لیگ (ن) وسطی پنجاب اور کراچی، لاہور اور راولپنڈی جیسے بڑے شہروں میں سب سے زیادہ مضبوط تھی۔ 
بے نظیربھٹو دوبارہ وزیراعظم بنیں، لیکن اس بار ان کا پارلیمانی مینڈیٹ 1988 کے مقابلے میں کمزور تھا۔ انھوں نے 19 اکتوبر 1993 کو سرکاری طور پر حلف اٹھایا۔
ایک غیر ہمدرد صدر کی طرف سے اپنی وزارت عظمیٰ کو لاحق خطرے کو محسوس کرتے ہوئے، بےنظیربھٹو نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پی پی پی کے ایک رکن فاروق لغاری کو نومبر میں صدارت کے لیے نامزد کیا گیا اور ان کا انتخاب کیا گیا۔ 1993 میں بھٹو کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد زرداری کو جیل سے رہا کر دیا گیا۔ اپنی دوسری مدت کے دوران، بےنظیربھٹو نے اپنے شوہر اور والدہ دونوں کو اپنی کابینہ میں شامل کیا۔ 
بےنظیربھٹو اور فاروق لغاری کے درمیان تعلقات اس وقت خراب ہو گئے تھے جب انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی کے قتل میں ملوث تھیں۔ فاروق لغاری نے وزارت عظمیٰ کے خلاف اقدام کرنے کے لیے آرمی چیف کرامت کی حمایت طلب کی۔ 
لغاری نے بےنظیربھٹو کو خبردار کیا کہ وہ ان کی حکومت کو برطرف کر دیں گے جب تک کہ وہ بدعنوانی کو روکنے اور معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے اقدامات متعارف نھیں کراتیں۔ اس کے جواب میں، اس نے وزیر خزانہ کے طور پر اپنا قلم دان چھوڑ دیا اور اکتوبر 1996 میں اپنے بیشتر اقتصادی مشیروں کو برطرف کر دیا۔ آئین کی آٹھویں ترمیم (58 2 b ) کا حوالہ دیتے ہوئے، 5 نومبر1996 کو، فاروق لغاری نے کرپشن اور نااہلی کی بنیاد پر بےنظیربھٹو کی حکومت کو برطرف کردیا۔ مجموعی طورپر اس ظالم ترمیم نے چوتھی بار حکومت کا خاتمہ کیا۔
فوجیوں نے بےنظیربھٹو کی رہائش گاہ کو گھیرے میں لے لیا، جب کہ زرداری نے ملک چھوڑ کر دبئی جانے کی کوشش کی، لیکن ان پر منی لانڈرنگ اور مرتضیٰ کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔ وہ 2004 تک جیل میں رہے۔
میاں محمد نواز شریف؛ (پیدائش 25 دسمبر 1949) ایک پاکستانی تاجر اور سیاست دان ہیں جنھوں نے تین بار پاکستان کے وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پاکستان کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف نے مجموعی طور پر 9 سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دیں۔
1980 کی دہائی کے وسط میں سیاست میں آنے سے پہلے، نواز نے گورنمنٹ کالج میں بزنس اور پنجاب یونیورسٹی میں قانون کی تعلیم حاصل کی۔1981 میں، نواز شریف کو صدر ضیاء نے صوبہ پنجاب کے لیے وزیر خزانہ مقرر کیا تھا۔ نواز شریف 1985 میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے اور 1988 میں مارشل لاء کے خاتمے کے بعد دوبارہ وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے۔ 1990 میں، نواز شریف نے اسلامی جمہوری اتحاد کی قیادت کی اور پاکستان کے 12ویں وزیر اعظم (6 نومبر 1990 سے 18 جولائی 1993)بنے۔
1993 میں معزول ہونے کے بعد، جب صدر غلام اسحاق خان نے قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا، نواز شریف نے 1993 سے 1996 تک بے نظیر بھٹو کی حکومت میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
انھوں نے پاکستان کے چودھویں وزیراعظم (17 فروری 1997 سے 12 اکتوبر 1999) کے طور پر فوجی قبضے کے ذریعے ان کی برطرفی تک خدمات انجام دیں اور ان پر طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں مقدمہ چلایا گیا۔ایک دہائی سے زائد عرصے تک جیل اور جلاوطنی کے بعد، وہ 2011 میں سیاست میں واپس آئے اور 2013 میں اپنی پارٹی کو تیسری بار فتح تک پہنچایا اور تیسری بار وزیراعظم (5 جون 2013 سے 28 جولائی 2017) منتخب ہوئے۔ پانامہ پیپرز کیس کے انکشافات کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں، نوازشریف کو عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار دیا، اور انہیں احتساب عدالت نے دس سال قید کی سزا بھی سنائی۔2021 تک، نواز شریف ضمانت ختم ہونے پر علاج کے لیے لندن میں ہیں۔
ظفر اللہ خان جمالی ؛ (1 جنوری 1944 - 2 دسمبر 2020) ایک پاکستانی سیاست دان تھے جنھوں نے 23 نومبر 2002 سے 26 جون 2004 اپنے استعفیٰ تک پاکستان کے 15ویں وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ بلوچستان سے پاکستان کے پہلے اور واحد منتخب وزیر اعظم تھے۔
اصل میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حامی، جمالی 1970 کی دہائی میں فوجی گورنر رحیم الدین خان کے تحت بلوچستان کی سیاست سے ابھرے تھے۔ 
وہ نواز شریف کی حکومت کے ایک حصے کے طور پر ایک قومی شخصیت بن گئے، اور مسلسل دو بار (جون سے دسمبر 1988 اور نومبر 1996 سے فروری 1997 تک) بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہے۔ 
اگرچہ وہ پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل) میں ایک سینئر رہنما اور نواز شریف کے معتمد تھے، جمالی اور نواز شریف کے درمیان تعلقات ٹھنڈے پڑ گئے اور جمالی نے 1999 میں جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ق) میں شمولیت اختیار کی۔ 
2002 کے عام انتخابات میں، جمالی نے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے اپنی بولی جیت لی جب ان کے حامیوں اور ساتھیوں نے ان کی حمایت کے لیے پارٹی لائنوں کو عبور کیا۔ 
21 نومبر 2002 کو جمالی کو پاکستان کے 13ویں وزیر اعظم نامزد کیا گیا۔ وہ پاکستان کی تاریخ میں جمہوری طور پر منتخب ہونے والے پانچویں مختصر ترین وزیر اعظم ہیں۔
چوہدری شجاعت حسین؛ 27 جنوری 1946 کو پیدا ہوئے ایک سینئر پاکستانی قدامت پسند سیاست دان ہے جس کا تعلق گجرات کے جاٹ خاندان سے ہے جو پاکستان کے 16ویں وزیر اعظم کے طور پر 30 جون 2004 سے 28 اگست 2004 تک ایک عبوری مدت کے دوران عارضی بنیادوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ میر ظفر اللہ جمالی کے استعفیٰ کے بعد، شجاعت حسین نے وزیر خزانہ شوکت عزیز کو وزارت عظمیٰ کے لیے نامزد کیا۔ چوہدری شجاعت عارضی طور پر وزیراعظم بن گئے کیونکہ شوکت عزیز کو وزیراعظم منتخب نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ سینیٹ کے رکن تھے۔
شوکت عزیز؛ (6 مارچ 1949) ایک پاکستانی سابق بینکر اور فنانسر ہیں جنھوں نے 28 اگست 2004 سے 15 نومبر 2007 تک پاکستان کے 17ویں وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ 6 نومبر 1999 سے 15 نومبر 2007 تک پاکستان کے وزیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ جنرل پرویز مشرف ، شوکت عزیز کو وزارت خزانہ کا چارج سنبھالنے کے لیے امریکہ سے پاکستان واپس آئے۔ 2004 میں، شوکت عزیز کو پاکستان مسلم لیگ (ق) کی قیادت میں مشرف کی وفادار حکومت نے 6 جون 2004 کو ظفر اللہ خان جمالی کے استعفیٰ کے بعد وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔
سید یوسف رضا گیلانی; (9 جولائی 1952) ایک پاکستانی سیاست دان ہیں جنھوں نے 25 مارچ 2008 سے 26 اپریل2012 پاکستان کے 18ویں وزیر اعظم کے طور پر پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے نااہلی اور معزولی تک بطور وزیر اعظم خدمات انجام دیں۔یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی وزیراعظم کو توہینِ عدالت کے مقدمے میں سزا ہوئی ہے۔یہ اس قسم کے مقدمے میں دی جانے والی سزاؤں میں سے سب سے کم سزا ہے۔ 26 مارچ 2021 کو، انہیں پاکستان کی سینیٹ میں قائد حزب اختلاف مقرر کیا گیا۔
راجہ پرویز اشرف؛ (26 دسمبر 1950) ایک پاکستانی تاجر، ماہر زراعت، اور سیاست دان ہیں جنھوں نے 22 جون 2012 سے 16 مارچ 2013 کو اپنی نامزد کردہ مدت پوری کرنے تک پاکستان کے 19ویں وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔
 نواز شریف 5 جون 2013 سے 28 جولائی 2017 تک پاکستان کے بیسویں وزیراعظم منتخب ہوئے۔ تفصیلی ذکر دوسرے حصہ لکھ دیا گیا ہے۔
شاہد خاقان عباسی؛ (27 دسمبر 1958) ایک پاکستانی سیاست دان اور تاجر ہیں جنھوں نے یکم اگست 2017 سے مئی 2018 تک پاکستان کے 21 ویں وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ عباسی پاکستان مسلم لیگ (نواز) (PML-N) کے سینئر نائب صدر ہیں۔ وہ اکتوبر 2018 سے پاکستان کی قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ اس سے قبل، انھوں نے 1988 سے مسلسل 8 بار قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔
عمران احمد خان نیازی ؛ (5 اکتوبر 1952) ایک پاکستانی سیاست دان اور سابق کرکٹر ہیں جو پاکستان کے 22ویں اور موجودہ وزیر اعظم ہیں۔ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بھی ہیں۔سیاست میں آنے سے قبل، خان ایک بین الاقوامی کرکٹر اور پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے، جس کی وجہ سے انھوں نے 1992 کرکٹ ورلڈ کپ میں فتح حاصل کی۔ وہ 2005 سے 2014 تک برطانیہ میں یونیورسٹی آف بریڈ فورڈ کے چانسلر رہے۔
پروفیسراخلاق احمد ساغر
پاکستان کے وزرائے اعظم (آخری حصہ)


March 03, 2022

تحریک عدم اعتماد ۔تحریر ڈاکٹر احمد چشتی صاحب

Pakistan Writers Forum
تحریک عدم اعتماد 

تحریک عد م اعتماد ایک ایسی تحریک ہے جس میں کسی حکومتی عہدیدار یعنی وفاقی وزیر یا وزیراعظم کیخلاف قراردار پیش کی جاتی ہے۔ اگر اپوزیشن کے ووٹ زیادہ ہوتے ہیں تو حکومتی وزیراعظم اپنے عہدے سے برطرف ہوجاتا ہے اور اپوزیشن باہمی اتحاد سے اپنا وزیراعظم لے آتی ہے یا اسمبلی تحلیل ہو جاتی ہے اور دوبارہ الیکشن ہوتے ہیں۔
اگر صوبائی عہدیداروں کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانی ہو تو وہ صوبائی اسمبلیوں میں شروع کی جاتی ہے اور وفاقی عہدیداروں کی تحریک عدم اعتماد ایوان زیریں اور ایوان بالا میں پیش کی جاتی ہے۔تحریک عدم اعتماد اکثر حزب اختلاف یعنی اپوزیشن کی طرف سے پیش کی جاتی ہے ۔ اس تحریک کا مطلب و مقصد یہ ہوتا ہے کہ حکومتی عہدیداران کام کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں یا آئین و قانون کیخلاف کام کر کے ملکی بدنامی کی وجہ بنے ہیں۔
آج کل تحریک عدم اعتماد کی باتیں زبان زد عام ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کے بڑے آپس میں سر جوڑ کر بیٹھتے نظر آ رہے ہیں۔ ماضی میں بھی تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پاکستان میں وزرائے اعظم کو ہٹانے کی کوششیں کی گئیں مگر پاکستان میں یہ تحریک کامیاب نہیں ہو سکی۔
1989 میں محترمہ بینظیر بھٹو کیخلاف اور 2006میں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف تحریک اعتماد پیش کی گئی مگر کامیاب نہ ہو سکی۔سابق سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین کیخلاف دو دفعہ اور صادق سنجرانی کے خلاف ایک دفعہ تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی مگر اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا ہوا۔
اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے ایم این ایز کی تعداد 157،ایم کیو ایم6 ،پاکستان مسلم لیگ ق 5،بلوچستان عوامی پارٹی 5،گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 3،عوامی مسلم لیگ 1،اعتماد و رسد کے 6 ہے۔ اعتماد و رسد ویسٹ پارلیمانی نظام طرز پر اقلیتی حکومتوں کیلئے ضروری ہے تا کہ وہ ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی میں اپنا اقتدار قائم رکھ سکیں۔ اعتماد و رسد کے ممبران قومی اسمبلی کسی حکومت مخالف تحریک کی صورت میں حکومت کو سپورٹ کرتے ہیں یا اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔
حزب اختلاف کے پاس اس وقت 158ایم این ایز ہیں جن میں نون لیگ کے 84، پیپلز پارٹی کے 54،متحدہ مجلس عمل 16،آزاد 3، اور عوامی نیشنل پارٹی کے 1ایم این اے ہیں۔
حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں اگر حکومتی اتحاد جو 178ایم این ایز پر مشتمل ہے میں سے کسی سیاسی جماعت کو اپنے ساتھ ملا لیتی ہیں تو حکومت ختم ہونے کے واضح امکانات ہونگے ۔ حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں میں تجربہ کار سیاستدان موجود ہیں جو حکومت چلانے کا ہنر جانتے ہیں اور اپنے دور حکومت میں ملک پر آئے بحرانوں و مسائل کا بھی سامنا کر چکے ہیں۔اگر تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو کیا نئے انتخابات ہونگے یا یہی اسمبلی نیا وزیراعظم منتخب کرے گی۔ بہرحال تحریک عدم اعتماد ایک خطرناک انتقامی کھیل ہے۔حکومت اور اپوزیشن جب تک ملکی مفادات کیلئے ایک پیج پر مل کر نہیں بیٹھیں گے تب تک ملک کے مسائل حل نہیں ہونگے۔ تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی اختلافات بھلا کر ملکی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔جب سے پاکستان بنا ہے تب سے جو اپوزیشن میں ہوتا ہے وہ حکومت کی مخالفت کرتا ہے۔ اگر یہی کھیل جاری رہا تو مسائل حل ہونے کی بجائے مزید گھمبیر ہوتے جائیں گے کیونکہ جو اگلی بار اپوزیشن میں ہو گا وہ بھی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوشش کرتا رہے گا۔ 
تحریک عدم اعتماد ، تحریر : ڈاکٹر احمد چشتی صاحب

March 01, 2022

پاکستان کے وزرائے اعظم (دوسرا حصہ) تحریر : پروفیسر اخلاق احمد ساغر صاحب

Pakistan Writers Forum
پاکستان کے وزرائے اعظم (دوسرا حصہ)
نورالامین 15 جولائی 1893 - 2 اکتوبر 1974)، جسے 'پاکستان کا محب وطن' کہا جاتا ہے، ایک ممتاز پاکستانی رہنما، اور ایک بے مثل قانون دان تھے جنھوں نے پاکستان کے آٹھویں وزیر اعظم (7 دسمبر 1971 – 20 دسمبر 1971) اور پہلے واحد نائب صدر (20 دسمبر 1971 – 14 اگست 1973) کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 
انھیں پاکستان کے آخری بنگالی لیڈر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 
ان کی بطور وزیر اعظم صرف 13 دن کی مدت پاکستانی پارلیمانی تاریخ میں سب سے کم مدت ہے۔ 
1948 میں مشرقی بنگال کے وزیر اعلی کے طور پر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرتے ہوئے، انہوں نے سپلائی کی وزارت کی سربراہی کی۔ 1970 کے پاکستانی عام انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی، انھوں نے 1971 کی ہند-پاکستان جنگ میں پاکستان کی قیادت کی۔
جب ان کے آبائی صوبے مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہوتے گئے، امین کو صدر جنرل یحییٰ خان نے 6 دسمبر 1971 کو وزیر اعظم مقرر کیا تھا۔ 20 دسمبر 1971 کو، 
یحیٰی خان استعفیٰ دے دیا۔ اس طرح نور الامین کی بطور وزیر اعظم مدت کم ہو گئی اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے نئے صدر کے طور پر حلف اٹھالیا۔ دو دن بعد، امین کو پاکستان کا نائب صدر مقرر کیا گیا، وہ واحد شخص تھا جو اس عہدے پر فائز تھا۔ 
عبوری آئین کے نفاذ اور مارشل لاء کے خاتمے کے بعد 23 اپریل 1972 کو انہوں نے دوبارہ عہدے کا حلف اٹھایا۔ 
وہ اس عہدے پر فائز رہے جب تک کہ 14 اگست 1973 کو نئے آئین کے نفاذ کے ساتھ ہی اس عہدے کو ختم نہیں کر دیا گیا۔
وہ پاکستان میں رہے، جب کہ ان کے آبائی علاقے (بنگال) نے عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے طور پر آزادی حاصل کی۔ 
وہ 2 اکتوبر 1974 کو راولپنڈی میں 81 سال کی عمر میں حرکت قلب بندہونے سے انتقال کر گئے اور وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ان کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین کروائی۔انھیں قائد اعظم کے مقبرے میں دفن کیا گیا۔ 
ان کا مقبرہ خاص طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے، اطالوی سفید سنگ مرمر پر ان کا نام سنہری حروف میں کندہ کیا گیا ہے۔
ذُوالفقار علی بُھٹّو؛ (5 جنوری 1928 - 4 اپریل 1979) ایک پاکستانی بیرسٹر اور سیاست دان تھے جنھوں نے 1973 سے 1977 تک پاکستان کے نویں وزیراعظم (14 اگست 1973 – 5 جولائی 1977) کے طور پر خدمات انجام دیں، اور اس سے پہلے 1971 سے 1973 تک پاکستان کے چوتھے صدر (20 دسمبر 1971 – 13 اگست 1973)  کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے 1979 میں اپنی پھانسی تک چیئرمین رہے۔
بھٹو ایک پاکستانی قوم پرست اور سوشلسٹ تھے، پاکستان میں جمہوریت کی ضرورت کے بارے میں خاص خیالات رکھتے تھے۔ 
1963 میں وزیر خارجہ بننے پر، ان کے سوشلسٹ نقطہ نظر نے انہیں پڑوسی ملک چین کے ساتھ قریبی تعلقات شروع کرنے پر متاثر کیا۔ 
اس وقت، بہت سے دوسرے ممالک نے تائیوان کو چین کی جائز واحد حکومت کے طور پر قبول کیا، ایک ایسے وقت میں جب دو حکومتیں "چین" ہونے کا دعویٰ کرتی تھیں۔ 
1964 میں، سوویت یونین اور اس کی سیٹلائٹ ریاستوں نے نظریاتی اختلافات پر بیجنگ کے ساتھ تعلقات منقطع کر لیے، اور صرف البانیہ اور پاکستان نے عوامی جمہوریہ چین کی حمایت کی۔ 
بھٹو نے اقوام متحدہ اور یو این سیکورٹی کونسل میں بیجنگ کی بھرپور حمایت کی، جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات جاری رکھے۔چین کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی بھٹو کی مضبوط وکالت کو امریکہ کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ 
امریکی صدر لنڈن بی جانسن نے بھٹو کو خط لکھا، جس میں انھیں خبردار کیا گیا کہ چین کی طرف مزید دباؤ پاکستان کے لیے امداد کے لیے کانگریس کی حمایت کو خطرے میں ڈال دے گا۔ بھٹو نے اپنی تقاریر کو طنزیہ انداز میں خطاب کیا اور وزارت خارجہ کی سربراہی جارحانہ انداز میں کی۔ان کے قائدانہ انداز اور اقتدار میں تیزی سے اضافہ نے انھیں قومی شہرت اور مقبولیت دلائی۔
بھٹو نے 146 ارکان کے ایوان میں 108 ووٹ حاصل کرنے کے بعد 14 اگست 1973 کو ملک کے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ فضل الٰہی چوہدری نئے آئین کے تحت صدر منتخب ہوئے۔بھٹو حکومت نے اپنی پانچ سالہ حکومت کے دوران حکومت کی ہر سطح پر وسیع پیمانے پر اصلاحات کیں۔ 
پاکستان کے دارالحکومت اور مغربی اصلاحات جو 1947 میں 1970 کی دہائی میں شروع اور تعمیر کی گئیں، کو تبدیل کر کے سوشلسٹ نظام سے تبدیل کر دیا گیا۔ ان کی پالیسیوں کو عوام دوست دیکھا گیا لیکن دیرپا اثرات مرتب نہیں ہوئے کیونکہ بھٹو کے خلاف سول ڈس آرڈر 1977 میں شروع ہوا۔ بھٹو کو 1973 کے آئین کا بنیادی معمار سمجھا جاتا ہے جو پاکستان کو پارلیمانی جمہوریت کی راہ پر ڈالنے میں مرکزی کردار ہے۔
 بھٹو پاکستان میں ایک متنازعہ اور بڑے پیمانے پر زیر بحث شخصیت ہیں۔ جب کہ ان کی قوم پرستی کے لیے ان کی تعریف کی گئی، بھٹو کو اپنے سیاسی مخالفین کو دھمکانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔تمام تر تنقید اور مخالفت کے باوجود بھٹو اپنی موت کے بعد بھی انتہائی بااثر اور قابل احترام شخصیت رہے۔بھٹو کو پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ بااثر آدمیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے حامیوں نے انہیں قائد عوام کا خطاب دیا۔
محمد خان جونیجو؛ (18 اگست 1932 - 18 مارچ 1993) ایک پاکستانی سیاست دان اور ایک ماہر زراعت تھے جنھوں نے پاکستان کے دسویں وزیر اعظم (24 مارچ 1985 – 29 مئی 1988)کے طور پر خدمات انجام دیں، 1985 میں اس عہدے پر منتخب ہوئے اور 1988 میں برطرف ہوئے۔
1954 میں برطانیہ سے واپسی پر، انہوں نے پاکستان مسلم لیگ (پی ایم ایل) میں شمولیت اختیار کی اور ضلع سانگھڑ کے میئر کے طور پر منتخب ہوئے اور 1963 تک مسلم لیگ کے لیے پارٹی ورکر کے طور پر کام کیا۔ انہوں نے انتخابات میں حصہ لیا اور مغربی پاکستان کے لیے منتخب ہوئے۔ 
قانون ساز اسمبلی اور جلد ہی انہوں نے ایوب انتظامیہ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے بعد 1965 تک محکمہ صحت، مواصلات اور لیبر کا قلمدان سنبھالا۔
جنوری 1985، صدر ضیاء الحق نے ملک گیر عام انتخابات ( غیر جماعتی) کے انعقاد کا اعلان کیا جو کہ غیر جانبداری پر مبنی ہوں گے- ایسی سیاسی افواہیں پھیل رہی ہیں کہ امریکی صدر رونالڈ ریگن کا اس سلسلے میں بعد میں سیاسی کردار تھا۔
جونیجو ضلع سانگھڑ سے اپنے حلقے کا دفاع کرنے میں کامیاب رہے اور انہیں پیر پگارا کے مذہبی سیاسی مشنری کے طور پر جانا جاتا تھا جو کہ سندھ میں اپنے ہی سیاسی دھڑے کی قیادت کر رہے تھے۔ صدر ضیاء نے وزیر اعظم کی تقرری کے لیے تین ناموں پر غور کیا جن میں یہ شامل تھے: غلام مصطفیٰ جتوئی، لیاقت علی جتوئی اور جونیجو- سبھی کا تعلق سندھ سے تھا۔ پیر پگارا سے مشاورت کے بعد، صدر ضیاء نے آئین کے مطابق جونیجو کو سویلین حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہوئے جونیجو کو وزیر اعظم مقرر کیا۔
ان کے بار بار اصرار کرنے پر بالآخر مارشل لاء اٹھا لیا گیا انھوں نے اپنی کابینہ کا اعلان کیا جس نے سویلین کابینہ میں صدر ضیاء کے بہت سے فوجی ارکان کو بے دخل کر دیا۔ انھوں نے دفاع اور داخلہ کے دو وزارتی محکمے اپنے پاس رکھے۔29 مئی 1988 کو صدر ضیاء پی ٹی وی نیوز پر نمودار ہوئے اور حیرت انگیز طور پر آٹھویں ترمیم (آئین 1973 کا آرٹیکل 58(2b) کا استعمال کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔
1993 میں، اسے کینسر کی تشخیص ہوئی اور وہ علاج کے لیے امریکہ گئے مگر صحت یاب نہ ہو سکے۔اسی سال ان کا انتقال ہوگیا۔
جاری ہے ۔۔۔
پروفیسر اخلاق احمد ساغر
پاکستان کے وزرائے اعظم (دوسرا حصہ)