Pakistan Writers Forum
ادبی دنیا اور ماجد اکرم
ماجد اکرم عارفوالا سے ہیں۔ ان کا شمار چوٹی کے شعراء میں ہوتا ہے. میں ماجد اکرم سے عمر میں کافی چھوٹا ہوں اور ماجد اکرم کا احترام میرے لیے اپنے فیملی ممبران کیطرح ہے۔ میں ماجد اکرم کے اشعار کو بہت پسند کرتا ہوں۔ ماجد اکرم صاحب کے اچھے اشعار اور سریلی آواز کی وجہ سے مجھے ان سے دلی لگاؤ ہو گیا۔ ماجد اکرم جب پڑھتے ہیں تو محفل کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ ماجد اکرم ہمیشہ ادبی دوستوں کو متحد ہونے کا درس دیتے ہیں وہ ہمیشہ ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کی بات پر زور دیتے ہیں ۔ شہر کے ادبی حلقوں کو یکجا کرنے میں ان کا نمایاں کردار رہا ہے۔ ماجد اکرم ادبی آسمان پہ چمکتا ہوا ستارا ھے جو ایک دن چاند کے سینے پہ کھڑا ہو کر ستاروں کو روشنی بانٹے گا۔ ماجد اکرم کی شاعری سن کر مجھے شوق ہوا کہ شعر کہوں۔ماجد اکرم کے کچھ اشعار حسبِ ذیل ہیں۔۔
بچھڑتے جاتے ہیں رستوں میں ہمسفر میرے
تری تلاش میں نکلا ہوا ہوں گھر میرے
مری اداسی کو اچھا نہیں یہ لگتا ہے
خوشی کی بات کیا کر نہ چارہ گر میرے
اڑانِ حوصلہ کچھ اور بڑھ بھی سکتی ہے
مرے صیاد نے کاٹے جو بال و پر میرے
گزاری عمر کے لمحے یہیں پہ رہتے ہیں
سدا سو شاد رہیں کوچہ و نگر میرے
کبھی تو چھوڑ کے دنیا میں جاؤنگا ماجد
کہ رہتے جان سے پیارے ہیں کچھ ادھر میرے
ایک اور جگہ ماجد اکرم تخیّل کو یوں پرواز دیتے ہیں کہ
تیرے غم اور دل کو ہم نے آج یکجا کردیا
تو نے جیسا چاہا تھا لو ہم نے ویسا کردیا
مثلِ خوشبو کب کسی کے ہاتھ آیا ہے وہ شخص
باتوں باتوں میں مجھے بھی اس نے چلتا کردیا
کیوں یہ کہتے ہو کسی قابل نہیں ہوں میں ترے
اسکی قدرت نے اگر قطرے کو دریا کردیا
شکر ہے اب جاگنا پڑتا نہیں شب بھر مجھے
بے رخی تیری مجھے ہے کچھ تواچھا کردیا
کیسے کوئی اسکے سر الزام آتا دوستو
بن کے جھوٹا میں نے اسکو جب تھا سچا کردیا
کیا ادا میں کر سکوں گا اس عطا کا شکریہ
مجھکو رسوا کردیا مجھ کو تماشہ کردیا
میں کہاں واقف تھا ماجد پہلے کارِ عشق سے
جیسا مجھ سے ہوسکا ہے الٹا سیدھا کردیا
ماجد اکرم انتہائی درجے کے انسان دوست اور محبِ ادب ہیں ۔ جو ان سے ایک دفعہ ملے ہمیشہ دوبارہ ملنے کا منتظر رہتا ہے۔ وہ محبت اور حسنِ سلوک کو پروان چڑھانے کا درس دیتے ہیں۔ خدا خوفی ان کے دل کا خاصہ ہے۔
ماجد اکرم کا اپنے اساتذہ کے بارے میں یہ کہنا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
"لکھنا پڑھنا آیا تو شاعری کا بھی آغاز ہوگیا ہر نئے لکھنے والے کیطرح آڑھی ترچھیں سطریں ہی کھینچتا تھا یونس متین صاحب ، محمود فریدی صاحب اور ظفر اقبال نادر صاحب کا شمار میرے اساتذہ میں ہوتا ھے اِن خوبصورت لوگوں کے قدموں میں بیٹھنے اور ان کی جوتیاں سیدھی کرنے سے یہ فیض حاصل ہوا ۔ اللہ نے اس سفر میں ان لوگوں کو میرا رہنما مقرر کیا اور وہ بہترین رہنما اور استاد ثابت ہوۓ۔ میں اُن کی محبت اور شفقت کا مقروض رہونگا"۔۔۔۔ماجد اکرم
ماجد اکرم نفیس النفس اور خوش گفتار ہیں۔ مجھے ان کی شاعری میں ایک ایسا درد نظر آتا ہے جو محبت کی تلاوت میں اشکوں کا ایندھن جلا دیتا ہے اور ان اشکوں کی روشنائی ان کے اشعار میں ملتی ہے۔ اللہ تعالی ان کو ہمیشہ خوش رکھےاور وہ اپنے زورِ قلم سے ادب کے موتی بکھیرتے رہیں۔
وہ کہتے ہیں ۔۔۔۔
کانچ جیسے ہیں مگر ہے یہی خاصہ انکا
خواب گر ٹوٹیں تو آہٹ نہیں آیا کرتی
غم ہیں لاحق مجھے بہت لیکن
تیری قربت میں بھول جاتا ہوں
No comments:
Post a Comment