Post Top Ad

پاکستان رائٹرز فورم کے سینئر نائب صدر ایڈووکیٹ جناب پروفیسر اخلاق احمد ساغر صاحب کا تازہ 

"خیالی مکالمہ" 



 خیالی مکالمہ

خ س : ‏یہ بتادیجیے کہ جن کو پاکستانی عدالتیں کرپشن پر سزا دیتی ہیں، [شریف ، ڈار وغیرہ] ان کو یہ برطانوی عدالتیں کلین چٹ دے دیتی ہیں اور جن کو یہاں کی عدالتیں اور میڈیا مقدس گائے بنا کر رکھتی ہیں [ملک ریاض اور اس کے بیٹے] ان کو برطانوی عدالتیں کرپٹ ڈکلئیر کر دیتی ہیں۔۔یہ کیا مزاق ہے؟ کیا یہ کھلا تضاد نھیں؟

خ ج: یہ‏‎براعظمی مذاق ہے۔۔۔۔۔‏‎اسی مذاق میں 74 برس گزر گئے۔۔۔مذاق ابھی جاری ہے۔ ‏‎یہ مذاق نھیں بلکہ ایک جملے میں مر جانا کہہ سکتے ہیں۔جھوٹے مقدمات پاکستان کے علاوہ ہر جگہ جھوٹے ہی ثابت ہوتے ہیں۔۔۔‏‎یہ تھپڑ ہوتا ہے جو عدلیہ کو یاد کرانے کےلیے کہ126 نمبرز کیسے آتےہیں۔۔

س خ: ہماری غربت کی وجہ کیا ہے؟

خ ج: اب تو قوم کو سمجھ آ جانی چاہیے کہ ہم غریب کیوں ہیں؟ اور امیر ملک امیر کیسے ہوئے؟ کیونکہ انھوں نے انصاف کا علم بلند رکھا، وہ ترقی کر گئے ہم برائے فروخت ہوگئے، ہم تباہ ہو گئے، اتنی سی بات ہے۔۔۔۔۔

س خ : پاکستانی اور برطانوی نظام عدل میں کیا فرق ہے؟

خ ج :‏‎یہ جو پاکستان کی عدالتيں فيصلےديتی ہيں وہ ان کی حقيقت ہےجس کی وجہ سے126نمبر پرہيں اوربرطانوی عدالتيں جوفيصلےديتی ہيں وہ ان کے انصاف کی سچائی ہے۔جس کے بارے میں دوسری جنگ عظيم کے دوران چرچل سےہٹلرکی فتوحات سےمتعلق پوچھاگياتو اس نے کہاآپ نےگھبرانا نھیں کیونکہ عدالتيں انصاف دےرہی ہيں تو ہميں شکست نھیں ہوسکتی۔‏‎وہ عدالتیں انصاف کرتی ہیں اور یہ حکم سنتی ہیں۔۔۔۔‏‎‎حکم صرف سنتی نھیں بلکہ اس پر عمل کرکے انصاف کا قتل بھی کرتی ہیں ۔‏‎برطانیہ کی عدالتیں وڈیوز اور وٹس ایپ کال پر فیصلے کرتی ہیں اور نہ ہی وہاں عظمت انصاف و نثار وطن ، گل و گلزار جیسے ہیرے پائے جاتے ہیں۔برطانوی عدالتوں میں فائلوں کو ٹائر نہیں لگتے۔۔۔۔ وہاں‏‎عدالتی ججز زر خرید غلام ہیں نہ ہی غیرسیاسی افراد سیاست پیشہ لوگوں کی سہولت کاری میں ملوث ہیں۔

س خ : یہ غدار کسے کہا جاتا ہے؟

خ ج: ‏‎یہی میں سوچتا ہوں جن کو ہم نے بچپن میں غدار پڑھاتھا وہ اب آ کر پتہ چلا کہ وہ صحیح بات کرتے رگڑے گئے تھے۔

‏‎خ س : عدلیہ اور میڈیا میں کیا قدر مشترک ہے؟

خ ج : ‏‎یہاں کا میڈیا اور عدالتیں لازم و ملزوم ہیں۔دونوں ہی نظریات اور اصول و ضوابط کی بجائے نظریہ ضرورت کی پیرو کار رہی ہیں۔ یہ ہی تو مشرق و غرب کا فرق ہے۔۔۔دونوں ہی ”سر جی“ والوں کے سامنے۔۔۔۔۔۔ بے بس ہوتے ہیں۔

خ س : انصاف اورمنافقت کے بارے میں بتادیجیے۔

خ ج : انصاف اُدھر۔۔۔۔۔منافقت اِدھر ۔۔۔۔

اخلاق احمد ساغر

2 comments: