*ماں بولی (پنجابی ) کا عالمی دن*
ایک تازہ لسانی جائزے کےمطابق دنیا میں اس وقت کُل چھ ہزار آٹھ سو نو زبانیں (ماں بولی ) بولی جاتی ہیں۔ لیکن ان کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے کیونکہ نوے فیصد زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے کم ہے۔21 فروری ماں بولی کا عالمی دن ہے۔ پوری دنیا میں یہ دن نہایت ہی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ماں بولی کے عالمی دن کا پس منظر یہ ہے کہ21 فروری 1952 ء کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنی بنگالی زبان کے حق میں جلوس نکالا ،سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے بہت سے طلبہ شہید ہوئے ،1999ء میں بنگلہ دیش نے اقوام متحده کی جنرل اسمبلی میں اس واقعہ کے حوالہ سے قرارداد پیش کی، اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے 1952ء میں شہید ہونے والے بنگالیوں کی یاد میں 17 نومبر 1999ء کو اعلان کیا کہ21 فروری کو ماں بولی کا عالمی دن منایا جائے گا۔ ماں بولی کا دن گزشتہ دو دہائیوں سے پوری دنیا میں منعقد کیا جاتا ہے۔
پنجابی ایک ہند آریائی زبان ہے جسے پنجابی لوگ بولتے ہیں جوکہ پنجاب کے رہنے والے ہیں۔ پنجابی زبان کا آغاز پراکرت زبان سے ہوا ہے۔ اس زبان میں ادب کا آغاز بابا فرید الدین گنج شکر سے ہوا۔ بعد ازاں سکھ مت کے بانی بابا گورو نانک کا نام آتا ہے۔سکھوں کے پانچویں گورو ارجن دیو نے گورو گرنتھ صاحب کی تالیف کی تھی۔ یہ کتاب گورمکھی رسم الخط میں لکھی گئی تھی اور اس میں پنجابی کے علاوہ برج بھاشا اور کھڑی بولی کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔ پنجابی بولنے والوں میں اسلام ، ہندو مت، سکھ مت اور مسیحیت کے پیروکار شامل ہیں۔ہندو مت کے علاوہ باقی تینوں مذاہب میں اس زبان کو خاص حیثیت حاصل رہی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان میں کی گئی مردم شماریوں کے مطابق دنیا میں پنجابی بولنے والوں کی تعداد 15 سے 17 کروڑ سے زائد ہے ۔ اس زبان کے بہت سے لہجے ہیں جن میں سے ماجھی لہجے کو معیاری لہجہ مانا جاتا ہے۔ یہ لہجہ پاکستان میں لاہور، شیخوپورہ، گوجرانوالہ کے اطراف میں جبکہ ہندوستان میں امرتسر اور گرداسپور کے اضلاع میں مستعمل ہے۔ 1999ء کی شماریات کے مطابق پنجابی اور ہندی دُنیا میں گیارہویں سب سے زیادہ بولی جانی والی زبان ہے۔
پنجابی پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔ یہ ملک کی 60 فی صدی آبادی کی مادری زبان ہے جبکہ 80 فیصد پاکستانی یہ زبان بولنا جانتے ہیں۔ پاکستان میں پنجابی بولنے والے لوگوں کی تعداد کم و پیش 12 کروڑ ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان کی آبادی کا محض 3 فیصد ہی پنجابی جانتا ہے۔تقسیم ہند کا سب سے برا اثر پنجابی زبان پر پڑا۔ایک طرف ہندو پنجابی جوکہ صدیوں سے پنجابی بولتے آئے تھے اب ہندی کو اپنی مادری زبان کہلوانے لگے۔ پاکستان میں پنجابی کو کسی قسم کی سرکاری حیثیت نہ دی گئی، جبکہ ہندوستان میں پنجابی کو سرکاری حیثیت دینے کی راہ میں رکاوٹیں حائل دور کی گئیں۔ تاہم اب ریاست پنجاب میں پنجابی سرکاری اور دفتری زبان ہے۔ مزید برآں پنجابی کو ہندوستانی ریاستوں ہریانہ اور دہلی میں دوم زبان کی حیثیت حاصل ہے۔
پندرھویں سے انیسویں صدیوں کے درمیان مسلمان صوفی بزرگوں نے پنجابی زبان میں بے مثال منظوم کلام تخلیق کیے۔ سب سے مقبول بزرگوں میں بابا بلھے شاہ شامل ہیں۔ ان کی شاعری کافیوں پر مشتمل ہے۔ قصہ خوانی بھی پنجابی ادب کی ایک مقبول صنف ہے۔ سب سے مشہور قصہ ہیررانجھا کی محبت کا قصہ ہے جوکہ وارث شاہ کے قلم سے رقم ہو کر امر ہو چکا ہے۔ دیگر صوفی شعرا میں شاہ حسین، سلطان باہو، فضل شاہ، حافظ برخوردار، میاں محمد بخش اور خواجہ غلام فرید شامل ہیں۔
پنجابی کے جدید ادباء میں موہن سنگھ، شو کمار بٹالوی، امرتا پریتم، سرجیت پاتر (ہندوستان سے) شریف کنجاہی، منیر نیازی، انور مسعود، بابا نجمی اور منو بھائی (پاکستان سے) شامل ہیں۔
پنجابی امریکہ، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں اقلیتی زبان کے طور پر بولی جاتی ہے۔ پنجابی میں بھنگڑا اور موسیقی کی وساطت سے بھی کافی عالمی مقبولیت پائی ہے۔
پروفیسراخلاق احمد ساغر
No comments:
Post a Comment