Post Top Ad

اردو ادب اور یونس متین ۔تحریر: پروفیسر زبیر شاہد صاحب

 

اردو ادب اور یونس متین

اردو ادب اور یونس متین
یونس متین صاحب کا نام سن رکھا تھا ۔ 2017 میں ایم فل انگریزی کے دوران میرے لاہوری دوستوں نے بتایا کہ یونس متین صاحب تو آپ کے شہر عارفوالا کے رہائشی ہیں۔ میرے دل میں شوق پیدا ہوا کہ ان سے ملا جائے۔ ایک دن میں کالج سے واپسی پر علامہ اقبال لائبریری میں اخبار بینی کر رہا تھا کہ دو لوگ لائبریری میں داخل ہوئے اور شاعری کے حوالے سے گفتگو کرنے لگے۔ جب جانے لگے تو پتہ چلا کہ ان میں سے ایک یونس متین صاحب ہیں۔ میں ان سے ملا ان کو ان کے ہی معروف اشعار سنائے ۔ یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ اس کے بعد یہ سلسلہ تھمنے میں نہیں آیا۔ 

 دو سال پہلے کا واقع ہے کہ مجھے یونس متین صاحب ایک مشاعرے پر اپنے ساتھ اوکاڑہ لے گئے۔ جب ہم اڈے پہ اترے تو آٹو میں پچھلی سیٹ پہ بیٹھ گئے۔ پیچھے سے ایک انجان موٹرسائیکل سوار آیا اور ہاتھ کے اشارے سے کہا جناب آپ یونس متین ہیں۔ متین صاحب نے کہا جناب آپ کو کیسے علم ہوا کہ میں یونس متین ہوں؟ اس نے کہا " آگ جلتی رہی گلخنِ وقت میں رات بھر آگ جلتی رہی " 

میں حیران ہوا کہ یہ اجنبی شخص یونس متین صاحب کی شاعری لفظ بہ لفظ پڑھ رہا ہے۔ دراصل یہ یونس متین کی نظم داستان گو کے الفاظ تھے جو کہ ایک معروف نظم ہے۔ اجنبی نے بتایا کہ میں ان کی شاعری بہت پسند کرتا ہوں۔ 

 میں نے ان کی شاعری کو صرف پڑھا نہیں بلکہ ان کی شاعری سے عشق کیا ہے۔ یونس متین کی شاعری ایسی عمارت کی مثال ہے جس کی ایک ایک اینٹ پر محبت کی تلاوت کی گئی ہو۔ ان کا فن ایسا کہ لکھنے لگیں تو لکھتے ہی چلے جائیں ۔ یونس متین نے ایک ایک رات میں ایک ایک کتاب بھی لکھی ہے۔ ایسی چھ کتابیں ہیں جو ایک رات میں لکھی گئی ہیں۔ الفاظ کا چناؤ ایسا کہ آپ کو اشعار موتیوں کی لڑی محسوس ہوں۔ نظم میں اگر مجید امجد اور ن م راشد کے علاوہ پاکستان میں کوئی بڑا نام ہے تو وہ یونس متین ہے۔ یونس متین وہ بڑا شاعر ہے جس نے اردو ادب کی پاکستانی تاریخ کا پہلا منظوم سفر نامہ " ایک چکر ہے میرے پاؤں میں لکھا" جو ان کی معرفت کا باعث بنا. یونس متین کا ایک اور منظوم سفر نامہ " نتاشا" ھے جو انہوں نے وسط ایشیائی ریاستوں کے حوالے سے لکھا اور وہاں رہے بھی۔ جبکہ ایک چکر ہے میرے پاؤں میں یورپ کا منظوم سفر نامہ ہے جو انہوں یورپ کی سیر کیے بغیر پورے وزن و واقعات سے معمور کر کے لکھا۔

وہ اچھے اور بھلے مانس لوگوں کی صحبت پسند کرتے ہیں۔ کہیں نہیں ملتے تو صرف مسجد میں ملتے ہیں۔ سگریٹ نوشی کو مکمل طور پہ خیرآباد کہ چکے ہیں۔ خدا خوفی ان کے دل کا خاصہ ہے۔ انہوں نے دولت نہیں بنائی آج تک وہ سادہ لوح ہیں اور اسی مکان میں رہتے ہیں جس میں پچاس سال پہلے رہتے تھے۔ جو بٹ کر اب تقریباً دواڑھائی مرلے رہ گیا ہے۔ وہ امیر سے امیر بے وفاؤں کو پسند نہیں کرتے اور غریب سے غریب ادب پرست وفاداروں کے دوست ہیں۔یونس متین کی نظم قارئین کے لیے محبت کی تلاوت کے مترادف ہے۔ ان کی تصانیف پینتیس سے زیادہ ہیں۔ نظم میں معروف کتابیں ۔"ایک چکر ہے ہے میرے پاؤں میں " نتاشا" ریشم گلی" عارفوالا زیرو کلومیٹر" داستان گو" معروف کتابیں ہیں۔ ان کے علاوہ "واشنا" پانچواں موسم" لباس" مالا کو مالا کو" کے علاوہ بیس زیرِطبع کتابیں ہیں۔ 

ان کے چند اشعار ۔۔۔۔۔


ہم درختوں کی طرح ملتے ہیں انسانوں سے 

ہم کڑی دھوپ میں چھاؤں کی طرح ہوتے ہیں

 

مُٹھی کو نہیں کھولتے غم وا نہیں کرتے 

ہم عشق تو کرتے ہیں تماشا نہیں کرتے 


تحریر :محمدزبیرشاہد

عارفوالا

1 comment: