Post Top Ad

پاکستان کے تازہ معاشی اور سیاسی حالات و واقعات

 " پیام حق " 

تحریر انصر خان کھچی 

پاکستان کے تازہ معاشی اور سیاسی حالات و واقعات

اس وقت اگر آپ سے سوال کیا جائے کہ پاکستان کی حکومت کو کون بتارہا ہے کہ بجٹ کیسے بنے گا؟  ٹیکس کتنا لگے گا ؟ بجلی کا نرخ کیا ہوگا ؟ پٹرول کی قیمت کتنی بڑھے گی ؟ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کتنا اضافہ کرنا ہے ؟ یا کرنا بھی ہے کہ نہیں ؟ کس چیز پہ سبسڈی ختم کرنی ہے ؟ گورنر اسٹیٹ بینک کس کو لگانا ہے ؟ اور اسے کتنا خودمختار کرنا ہے ؟  تو آپ سب کا جواب آئے ہوگا " آئی ایم ایف " !!!!

اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش بھی نہیں ہے کہ حکومت ایسا نہیں کررہی ! علاوہ ازیں پاکستان کے معروف معاشی تجزیہ کار " ڈاکٹر قیصر بنگالی " کہہ رہیں کہ " آئی ایم ایف کے سامنے سرنڈر کرنے کے بعد اب "ورلڈ بینک " یہ ڈیمانڈ کررہا ہے کہ " Provincial fiscal autonomy"  کو ختم کیا جائے ۔ اور آئی ایم ایف پارلیمنٹ سے " State Enterprises " کیلئے اپنی مرضی کا قانون پاس کروانا چاہتی ہے ۔ 

ہماری پارلیمنٹ انٹرنیشنل اداروں کی جکڑ میں آچکی ہے  

ایک طرف یہ حقائق ہیں تو دوسری طرف غربت ، بیروزگاری ، معاشی بدحالی ، بدانتظامی ، چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ کچھ بھی ٹھیک نہیں چل رہا ۔ جبکہ سیاسی حل چل پہ نظر دوڑائی جائے تو اس وقت ان حالات کو لیکر اتنی تیزی سے ڈویلپمنٹس ہورہی ہیں کہ اشارے اور حالات سمجھنے کی کوشش کرنے والوں کے سر چکرا رہے ہیں ۔

ایک طرف کہا جارہا ہے کہ حکومت گرا کر ملک بچانا انتہائی ناگزیر ہوچکا ہے ، ملک عالمی سامراج کے شکنجے میں پھنس چکا ہے ، تو دوسری طرف یہ بتایا جارہا ہے کہ ملک ترقی کی راہ پہ گامزن ہے ، اور اپوزیشن کیلئے سیاسی موت ہے اس لئے شور مچ رہا ہے 

اصل کہانی کیا ہے ؟ کیا زمینی حالات ان خبروں سے مطابقت رکھتے ہیں ؟ کیا سیاسی طوفان چند لمحوں کے فاصلے پر ہے ؟ اور مستقبل کا سیاسی منظرنامہ کیا ہوگا اور تصویر کا دوسرا رخ کیا ہوسکتا ہے ؟ 

آئیے جانتے ہیں ان سب سوالوں کے جوابات 

کبھی خبر آتی ہے کہ امپائر نیوٹرل ہوگیا ہے ! اب حکومت کا بچنا مشکل ہے ! پھر خبر آتی ہے آصف علی زرداری اور شہباز شریف میں بریک تھرو ہوگیا ہے ! آصف زرداری ماڈل ٹاؤن شہباز شریف کی رہائش گاہ پہنچ گئے ہیں ! مریم اور بلاول بھی ساتھ ہیں ! اب ایک پیج پہ ہیں اب تو حکومت کا بچنا ناممکن ہے ! 

پھر خبر آتی ہے کہ " پی ڈی ایم " جو کبھی عدم اعتماد کا آپشن زیر غور لانے کیلئے تیار نہیں تھی اس نے تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کردیا ہے ! پھر خبر آتی ہے کہ عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے تیور حکمران جماعت کیلئے بدل گئے ہیں اب معاملہ گڑبڑ ہے ! پھر خبر آتی ہے کہ جہانگیر ترین کے ساتھ بیس اراکین اسمبلی ہیں جو کہ حکومت گرانے کیلئے کافی ہیں ! پھر خبر آتی ہے کہ وزراء کی کارکردگی پہ تعریفی اسناد دینے پہ شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک کو ناراض کی گیا ! تحریک انصاف ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی ہے کام پی ٹی آئی کے اندر سے پڑے گا ! 

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی کنفیوژن میں مستقبل کا سیاسی نقشہ کیا ہوگا ؟؟؟

جو ہر پاکستانی وقت سے پہلے جاننا چاہتا ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ حکومتی اتحادی جماعتیں زیادہ تر اشاروں کی محتاج ہیں ، اگر امپائر نیوٹرل ہوبھی گیا تو پھر بھی وہ فوری طور پر کوئی سیاسی بحران پیدا کرنے کی بجائے امپائر کی چالیں دیکھ کر کسی نتیجہ پر پہنچیں گے ۔ کیونکہ اگر پاکستان میں سیاسی اکھاڑا لگنا ہی ہے جو کہ لگتا ہے ہونا ہے پھر کرکٹ ، ہاکی ، سے لیکر فٹ بال تک دنیا کا کوئی ایسا کھیل نہیں جو امپائر کے بغیر ہوجائے ،تو اس لئے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کسی بھی چھیڑ چھاڑ کے امکانات آخری آپشن کے طور پر ہی استعمال ہونگے ۔ اس لئے لگتا ہے کہ اپوزیشن جب تک حکومت کو کوئی بڑا سیاسی دھچکا نہیں لگا دیتی ، اس کا جانا ٹھہر نہیں جاتا ، اس وقت تک اتحادیوں کا حکومت میں رہنا ، اور امپائر کے اشارہ ابرو کا انتظار کرنا ہی شاید ان کے مفاد میں ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر جہانگیر ترین کا جہاز سیاسی دھند کے چھٹنے سے پہلے لینڈ نہ کرسکا اور ق لیگ نے انکار کردیا تو پھر کیا اپوزیشن کو پنجاب کا قلعہ فتح کرنے کی بجائے اسے بائی پاس کرنا پڑے گا ؟ 

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کے ناراض اراکین حکومت کے خلاف ووٹ دیں گے تو اپوزیشن کا پلڑا بھاری ہوسکتا ہے ! لیکن یہ اتنا آسان نہیں ہوگا آئین کے آرٹیکل 63 A B2 کے تحت اگر کوئی ارکان اسمبلی اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے تو پارلیمانی لیڈر کی سفارش پہ اسپیکر اسمبلی الیکشن کمیشن کو ایک ریفرنس بھیجنے کا پابند ہوتا ہے کہ اس رکن اسمبلی کی اہلیت کا تعین ہوسکے ، اور اس کی اہلیت کا فیصلہ اسپیکر نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کرے گا ، اور ماضی میں بھی تحریک انصاف اپنے اراکین کو ووٹ نہ دینے کی صورت میں اسمبلی سے فارغ کرنے کی وارننگز تو دیتی رہی ہے ، اس آپشن کو سب سے پہلے استعمال تحریک انصاف ہی کرے گی ، تو ایسی صورتحال میں دو آپشن آرہے ہیں ایک یہ کہ پنجاب میں ناکامی کی صورت میں اس کو بائی پاس کرکے اسپیکر قومی اسمبلی پہ حملہ کرنا ہوگا جس میں رائے شماری خفیہ ہوگی ، ناراض اراکین کسی بھی امتحان سے گزرے بغیر اپوزیشن کا پلڑا بھاری کرسکتے ہیں ، جبکہ دوسرا راستہ جو ناراض اراکین دکھا رہے ہیں وہ یہ کہ اپوزیشن  عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی بجائے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے پر مجبور کرے ، تاکہ ان کی گردن کسی بھی امتحان میں پڑے بغیر بچ جائے ، اب سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کے لوگ حکومت گرانے میں کارگر ثابت ہوسکتے ہیں ؟ نہیں ایسا نظر نہیں آتا 

تو پھر حکومت کیسے جائیگی ؟ حکومت اس وقت جائیگی جب وہ گھبرا کر خود ایسی غلطیاں کرے گی کہ امپائر کا نیوٹرل رہنا مشکل ہوجائیگا ، اور زمینی حقائق سیاسی تحریکوں کی وجہ سے بدلنا شروع ہوجائینگے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک کے بعد حکومت اور اس کا بیانیہ کمزور ہوگیا ، اور اب اس تحریک کے نتیجے میں چیزیں پھر بدل سکتی ہیں ! اور مولانا بھی کہہ رہے ہیں کہ اس حکومت کو آئینی طریقہ سے گھر بھیجیں گے ، اس کا مطلب ہے کہ بہت سی چالیں ابھی باقی ہیں ، بہت سے پیادے ابھی پوشیدہ ہیں ، اور ابھی بہت سے ایسے واقعات ہونے ہیں جو یکدم اتحادیوں سمیت دیگر اراکین کو حکومتی کشتی سے کودنے پر مجبور کردیں گے ، اس لئے تب تک کا انتظار کریں کیونکہ پکچر ابھ



ی باقی ہے ۔  



3 comments:

  1. السلام علیکم مریم جاوید چغتائی کالم نگار وصحافی
    کیا میں بھی یہ جوائن کر سکتی ہوں؟

    ReplyDelete
  2. 03057405509
    واٹساپ پہ رابطہ فرمائیں

    ReplyDelete