مولانا فرحان سیف صاحب المعروف ابن السیف کو ریسرچ اور تحقیق سے بھرپور شاندار کالم لکھنے پر پاکستان رائٹرز فورم کے شعبہ نشر و اشاعت کی طرف سے مبارکباد پیش کرتا ہوں 🥰❤️
🥀 صدارتی نظام اور درپردہ حقیقت 🥀
Borgen Magazine
کے مطابق دنیا میں 123 ممالک جمہوری نظام کے تحت چل رہے ہیں۔ پاکستان بھی ان میں سے ایک ہے۔ حال ہی میں چند عشروں سے پاکستان میں صدارتی نظام لانے کے خواہشمند حضرات سوشل میڈیا پر سرگرم عمل نظر آرہے ہیں، لیکن اب تو یہ باز گشت پارلیمنٹ میں بھی سنائی دے رہی ہے۔ آخر صدارتی نظام میں کیا خوبیاں ہیں کہ ہر دور میں اس کے نفاذ کی بات چل پڑتی ہے، اس سے ملک و ملت کو کیا فوائد حاصل ہوں گے، کیا واقعتاً یہ نظام عوام کے جذبات کا ترجمان ہے، کہیں اس میں ذاتی مفادات تو پوشیدہ نہیں، کیا یہ نظام پاکستان کی ترقی کا ضامن ہے، کیا پارلیمانی نظام بلکل فلاپ ہو چکا ہے، آخر کونسا نظام پاکستان میں کامیاب ہو سکتا ہے؟ اس طرح کے بہت سے سوالات اس وقت جنم لیتے ہیں، جب اس نظام کے حامی اچانک سے نمودار ہوکر اس کے گن گاتے ہیں۔
دراصل صدارتی نظام حکومت کا ایک جمہوری نظام ہے۔ اس نظام میں حکومتی سربراہ ایگزیکٹو برانچ کی سربراہی کے فرائض سر انجام دیتا ہے۔ اس نظام میں عوام براہ راست صدر کو ووٹنگ کے زریعے منتخب کرتی ہے۔ جب صدر منتخب ہو جاتا ہے تو وہ فیڈرل منسٹر کی ٹیم خود ہی بناتا ہے۔ صدر کی مدت بھی مقرر ہوتی ہے۔
جبکہ دوسری جانب پارلیمانی نظام میں صورت حال کچھ یوں ہوتی ہے کہ عوام نمائندے منتخب کرتی ہے۔ ان کے زریعے سے وزیر اعظم کا تقرر وجود میں آتا ہے۔ اکثر اوقات الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت کو نظام حکومت چلانے کے لیے دیگر جماعتوں سے اتحاد کرنا پڑتا ہے۔ اس نظام میں حکمران جوابدہ بھی ہوتا ہے اور اس کو تحریک عدم اعتماد کے زریعے عہدے سے مستعفی بھی ہونا پڑتا ہے۔
صدارتی اور پارلیمانی نظام کی کشمکش پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد سے ہی چل پڑی۔ جب 1950 کی دہائی میں پاکستان کا پہلا آئین بنا تو جنرل ایوب خان نے پہلی بار صدارتی نظام متعارف کروایا اور اس کے لیے انہوں نے باقاعدہ طور پر ایک آئینی کمیشن بھی تشکیل دیا، جس نے پارلیمانی نظام پر مضبوط ترین تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے صدارتی نظام کا کھلم کھلا جواز پیش کیا۔ جبکہ محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے پیش کردہ صدارتی نظام کے خلاف پارلیمانی نظام کے نفاذ کے لیے بھرپور طریقے سے الیکشن لڑا۔
صدارتی نظام کے حامیوں کا خیال ہے کہ جیسے ہی ملک میں یہ نظام نافذ کیا جائے گا، ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔ معیشت بہتر ہو جائے گی۔ مہنگائی کا نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ کرپشن کا سوچنا بھی محال ہو گا۔ عوام کے منتخب شدہ صدر کی طاقت بڑھے گی۔ موروثی سیاست سے جان چھوٹے گی۔ صدر اپنی مرضی سے اصحاب فہم و دانش کو وزیر، مشیر مقرر کرے گا۔ تجربہ کار ماہرین سے استفادہ کا موقع ملے گا۔ جاہل کرپٹ لوگ پیسے کے بل بوتے ایوان بالا تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ جبکہ پارلیمانی نظام میں سربراہ کو ہمیشہ اتحادیوں کی مخالفت کا خوف لگا رہتا ہے کہ کہیں تحریک عدم اعتماد کی وجہ سے کرسی سے ہاتھ نہ دھونے پڑیں۔ اس لیے اتحادی جماعتوں کے احتساب سے وہ شخص بھی گھبراتا ہے، جو اقتدار میں آنے سے قبل کہتا تھا کہ کسی کو بھی نہیں چھوڑوں گا۔ غرض یہ کہ پاکستان کے تمام مسائل کا واحد حل ان کے ہاں صدارتی نظام ہے۔
دوسری طرف پارلیمانی و جمہوری نظام کے گرویدہ لوگوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ ہو یا آسٹریلیا، ملائیشیا ہو یا کینیڈا ان سب میں پارلیمانی نظام کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ جبکہ صدارتی نظام کی کارستانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سانحہ مشرقی پاکستان ہو یا ون یونٹ کا معاملہ، انڈیا کو پانی بیچنے کی بات ہو یا علاقائی تعصب سب صدارتی نظام کے عطا کردہ تحفے ہیں۔ 1973 میں تمام پارٹیوں کی مشترکہ رائے سے پارلیمانی نظام کو اپنایا گیا۔
ذاتی طور پر میں صدارتی نظام کی مخالفت کرتا ہوں نہ پارلیمانی کی، کیوں کہ ہر نظام میں اپنی، اپنی خوبیاں اور خامیاں ہیں۔ کسی ایک کو یکسر مسترد کرنا انصاف کے خلاف ہے، اور نہ ہی ماضی کی طرح نظام تبدیل کرنے سے کچھ خاص فائدہ ہونے والا ہے۔ کیونکہ حکومت ہمیشہ چند مخصوص لوگوں کے ہاتھوں میں رہتی ہے۔ پاکستان میں کوئی بھی نظام اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کے نظام چلانے والے خود کو تبدیل نہیں کر لیتے۔
لیکن موجود ملکی اور سیاسی صورتحال میں صدارتی نظام کی خواہش کے پیچھے ایک بہت بڑی خفیہ اور اہم حقیقت کار فرما ہے۔ صدارتی نظام کے نفاذ کا سب سے بڑا فائدہ صرف ایک ہی طبقے کو ہے اور وہی لوگ اس وقت اس نظام کے خواہاں ہیں۔ دراصل ان کو پاکستانی آئین سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اسی آئین نے ان کو 1974 میں تمام پارلیمنٹیرینز کے اتفاق سے غیر مسلم اقلیت ڈکلیئر کیا۔ اب ان کی ہر ممکن کوشش یہ ہے کہ کسی طرح ان شقوں میں ترمیم کر دی جائے، لیکن پاکستان میں موجود مذھبی طبقہ کی موجودگی تک ایسے منصوبے کامیاب ہونا کافی مشکل ہے۔ لے دے کر ایک آخری صورت جو اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکتی ہے، وہ ہے تبدیلی نظام کی، تاکہ نئ قانون سازی کے زریعے ختم نبوت کے قانون میں قدغن لگائی جاسکے۔ جس کے لیے بیچارے اربابِ حکومت کو مہرہ بنایا جارہا ہے کہ تبدیلی نظام کے زریعے سے حکومتی نااہلی چھپ جائے گی اور سارا ملبہ نظام کی خرابی پر گرے گا۔ اصل میں وہ اس سارے معاملے میں درپردہ اپنے ناپاک عزائم کو سینوں چھپائے بیٹھے ہیں۔
آپ کسی بھی نظام کے حامی ہوں یا کسی جماعت و پارٹی کے کارکن، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کے ناطے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت ہم سب کی نجات کا ذریعہ ہے۔
تحریر اِبنُ السیف
کالم ٹائٹل مسکراتے زخم
No comments:
Post a Comment