تحریر : انصر خان کھچی
ہمارے مروجہ بینکاری نظام کی اساس اور بنیاد سود پر مبنی ہے اور سود کی قباحت اور اللہ تعالیٰ سے اعلان جنگ ہونے کا کون ذی شعور قائل نہیں ہے ؟! لیکن ایک بنیادی سوال جو عام ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ اگر سودی نظام کو ختم کیا جائے تو بینکنگ کو چلانے کا متبادل طریقہ کا ر کیا ہو ؟ اس بنیادی اور اہم سوال کا جواب آپ حضرات کی بصارتوں کی نظر
1 ۔ سودی بینکاری کے متبادل کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ مروجہ بینک جتنے کام جس انداز میں کررہے ہیں ، وہ سارے کم و بیش اسی طور طریقوں سے سرانجام دئیے جاتے رہیں ، اور ان کے اغراض و مقاصد میں کوئی فرق واقع نہ ہو ، کیونکہ اگر سب کچھ وہی کرنا ہے جو اب تک ہو رہا ہے تو "متبادل طریقہ کار" کی کیا ضرورت پھر ؟
اس لے برعکس متبادل کا مطلب یہ ہے کہ بینک کے جو کام موجودہ تجارتی حالات میں ضروری یا مفید ہیں ، ان کو سرانجام دینے کیلئے ایسا طریقہ کار اختیار کیا جائے جو شریعت کے اصولوں کے دائرے میں ہو ، اور جس سے شریعت کے معاشی مقاصد پورے ہوں ۔ اور جو کام شرعی اصولوں کے مطابق ضروری یا مفید نہیں ، اور جنہیں شرعی اصولوں کے مطابق ڈھالا نہیں جاسکتا ایسے کاموں سے بچا جائے ۔
2 _ چونکہ سود کی ممانعت کا اثر تقسیم دولت کے پورے نظام پر پڑتا اس لئے یہ توقع کرنا بھی غلط ہوگا کہ سود کے شرعی متبادل کو اپنانے سے تمام متعلقہ فریقوں کے نفع کا تناسب بھی وہی رہے گا جو موجودہ سودی نظام میں پایا جاتا ہے ۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر اسلامی احکام کو ٹھیک ٹھیک بروئے کار لایا جائے تو اس کی وجہ سے نفع کے اس تناسب میں بڑی تبدیلیاں آسکتی ہیں ، بلکہ یہ تبدیلیاں ایک مثالی اسلامی معیشت کیلئے ناگزیر طور پر مطلوب ہیں ۔
3_آج کل بینک جو سروسز فراہم کرتا ہے ، ان میں یہ پہلو مفید بلکہ موجودہ معاشی حالات کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ وہ لوگوں کی منتشر انفرادی بچتوں کو یکجا کرکے انہیں صنعت و تجارت میں استعمال کرنے کا ذریعہ بنتا ہے ۔ یہ بچتیں اگر ہر شخص کی اپنی تجوری میں پڑی رہتیں تو ان سے صنعت وتجارت کے فروغ میں کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اور ظاہر بات ہے اخراجات سے اضافی آمدنی کا فضول پڑا رہنا نہ شرعی اعتبار سے مطلوب ہے ، نہ عقلی ، نہ معاشی اعتبار سے اسے مفید کہا جاسکتا ہے ۔
لیکن ان بچتوں کو صنعت و تجارت میں انویسٹ کرنے کا جو طریقہ مروجہ بینکوں نے اختیار کیا ہے وہ قرض کا راستہ ہے ، چنانچہ یہ ادارے سرمایہ داروں کو اس بات کی ترغیب دیتے ہیں کہ وہ دوسروں کے مالی وسائل کو اپنے منافع کیلئے اس طرح استعمال کریں کہ ان وسائل سے پیدا ہونے والی دولت کا زیادہ حصہ خود ان کے پاس رہے اور سرمایہ کے اصل مالکوں کو ترقی کا موقع نہ مل سکے ۔
چنانچہ مروجہ بینکاری نظام میں بینک کی حیثیت محض ایک ایسے ادارے کی ہے جو روپے کا لین دین کرتا ہے اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ اس روپے سے جو کاروبار ہورہا ہے اس منافع کتنا ہے ؟ اور اس سے کس کو کتنا فائدہ اور کس کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے ؟
اسلامی احکام کی رو سے بینک ایسے ادارے کی حیثیت میں باقی نہیں رہ سکتا جس کا کام صرف پیسوں کا کاروبار ہو ، اس کے برعکس اسے ایک ایسا ٹریڈ انسٹیٹیوٹ بنانا پڑے گا جو بہت سے لوگوں کی بچتوں کو اکٹھا کرکے ان کو براہ راست انویسٹمنٹ میں لگائے ، اور وہ سارے لوگ جن کی بچتیں اس نے جمع کی ہیں براہ راست اس کاروبار میں حصہ دار بنیں اور ان کا نفع و نقصان اس کاروبار کے نفع ونقصان سے وابستہ ہو جس کاروبار میں ان کا سرمایہ لگا ہے
لہذا سودی بینکاری کے متبادل جو نظام تجویز کیا جائے اس پر یہ اعتراض نہیں ہونا چاہیے کہ بینک نے اپنی سابقہ حیثیت ختم کردی ہے اور وہ بذات خود ایک تجارتی ادارہ بن چکا ہے ، کیونکہ اس کے بغیر وہ ضرورت پوری نہیں کی جاسکتی جس کی وجہ سے متبادل نظام کی تلاش کی جارہی ہے ۔
4_ چوتھی بات یہ کہ صدیوں سے مروجہ کسی نظام یا سسٹم کو بدل کر اس کی جگہ ایک نیا نظام متعارف کروانے اور اسے لاگو کرنے ہمیشہ پریشانیاں اور مشکلات ہوتی ہیں ، لیکن اگر نظام کی تبدیلی ضروری ہوتو صرف ان مشکلات کی بناء پر نئے نظام کو ناقابلِ عمل قرار دینا بلکل درست نہیں ، ایسے حالات میں مشکلات کا حل تلاش کیا جاتا ہے ، ان مشکلات کے خوف سے پیش قدمی نہیں روکی جاتی
بہترین کالم ماشاءاللہ
ReplyDelete