Post Top Ad

حضرت عمر فاروقؓ کا نظام عدل مسلمانوں کیلئے قابلِ روشن مثال

 حضرت عمر فاروق ؓکا نظام ِ خلافت مسلمان حکمرانوں کے لیے قابل روشن مثال






 دعائے رسول حضرت عمر ؓبن خطاب 583ء(40ق ھ) مکہ میں پیدا ہوئے۔ آپؓ نے 26سال کی عمر میں قبولِ اسلام کیا۔ حضرت عمرؓ فاروق مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ راشد 22جمادی الثانی 13ہجری(23اگست 634ء) میں حضرت ابوبکر صدیق ؓکے وصال کے بعد خلیفہ مقرر ہوئے۔حضرت عمرؓ فاروق ایک باعظمت، انصاف پسند اور عادل حکمران مشہور ہیں۔ان کی عدالت میں مسلم و غیر مسلم دونوں کو یکساں انصاف ملاکرتا تھا۔ حضرت عمر فاروقِ اعظم ؓ کے مقبوضہ ممالک کا کل رقبہ 2251030مربع میل یعنی مکہ سے شمال کی جانب 1036، مشرق کی جانب 1087، جنوب کی جانب 483میل تھا، مغرب کی جانب چونکہ جدہ تک حکومت تھی اس لیے قابل ذکر نھیں ہے۔

حضرت عمر ؓنے بغیر کسی مثال اور نمونے کے جمہوری حکومت کی بنیاد ڈالی، اس کا اصل الاصول مجلس ِ شوریٰ کا انعقاد تھا۔ جب بھی کوئی انتظام پیش آتا تو ہمیشہ ارباب شوریٰ کی مجلس منعقد ہوتی تھی اور کوئی امر بھی بغیر مشورہ اور کثرت رائے کے عمل میں نھیں آسکتا تھا۔مجلس ِ شوریٰ میں لازمی طور پر دونوں گروہ (مہاجرین، انصار) کے اراکین شامل ہوتے تھے۔انصار بھی دو قبیلوں میں منقسم تھے۔ اوس و خزرج۔ چنانچہ مجلس شوریٰ میں دونوں قبائل کے اراکین شامل ہوتے تھے۔ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب اور زید بن حارثہ ؓ مجلس شوریٰ کے مرکزی اراکین تھے۔مجلس کے انعقاد کا طریقہ یہ تھا کہ پہلے ایک منادی اعلان کرتا تھا کہ الصلوۃ الجامعہ یعنی سب لوگ نماز کے لیے جمع ہوجائیں۔ جب لوگ جمع ہوجاتے تو حضرت عمر فاروق ؓ مسجد نبوی میں جا کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ نماز کے بعدمنبر پر چڑھ کر خطبہ دیتے تھے اور بحث طلب امر پیش کیا جاتا تھا۔

 15ہجری میں حضرت ابو ہریرہ ؓ کو بحرین کا عامل مقرر کیا گیا تو وہ سال میں پانچ لاکھ کی رقم اپنے ساتھ لائے۔ حضرت عمر فاروق ؓنے مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد کرکے اراکین کی مرضی معلوم کی تو حضرت عثمان غنی ؓ کی تجویز پر بیت المال کا قیام عمل میں آیا۔مورخ یعقوبی لکھتے ہیں کہ مدینہ کے بیت المال سے جو تنخوائیں اور وظائف وغیرہ مقرر تھے اس کی تعدا د تین کروڑ سالانہ تھی۔ صوبہ جات اور اضلاع میں جو بیت المال قائم تھے، ان کا انتظام یہ تھا کہ جس قدر رقم وہاں کے ہر قسم کے مصارف کے لیے ضروری ہوتی تھی رکھ لی جاتی تھی باقی رقم صدر بیت المال (مدینہ) کو روانہ کردی جاتی تھی۔بیت المال کی حفاظت اور نگرانی کے لیے دیانت دار اور قابل اعتماد لوگوں کو مقرر کیا جاتا تھا۔ حضرت عمر فاروق ؓنے 15ہجری میں ولید بن ہشام کی رائے پر محکمہ فوج قائم کیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ہر مسلمان فوج کا سپاہی ہے۔ فوجی حیثیت سے چند بڑے بڑے فوجی مراکز قرار دیئے گئے جن کا نام جند رکھا گیا اور یہی اصطلاح آج تک قائم ہے۔ جب دفتر مرتب ہوا تو اس کا نام دیوان رکھا گیا۔اور باقاعدہ تنخواہیں مقرر ہوئیں۔ 16ہجری میں حضرت عمر فاروق ؓ کے سامنے ایک دستاویز پیش ہوئی صرف شعبان کا لفظ لکھا تھا۔ آپ ؓ نے فرمایا یہ کیوں کر معلوم ہو گزشتہ شعبان کا مہینہ مراد ہے یا موجودہ، اسی وقت مجلس شوریٰ منعقد کی، تمام جید صحابہ جمع ہوئے اور یہ مسئلہ پیش کیا گیا، حضرت علی ؓ نے ہجرت ِ نبوی کی رائے دی اور اسی پر سب کا اتفاق ہوگیا۔ آں حضرت ﷺ نے ربیع الاول میں ہجرت فرمائی تھی۔ سال میں دو مہینے اور آٹھ دن گزر چکے تھے اس لحاظ سے ربیع الاول سے آغاز ہونا چاہییے تھالیکن چونکہ اہل عرب میں سال محرم سے شروع ہوتا ہے، اس لیے دو مہینے آٹھ دن پیچھے ہٹ کر سال شروع سے سنہ قائم کیا۔علامہ مقریز ی کی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ سب سے پہلے حضرت عمر فاروق ؓنے 18ہجری میں سکہ کے درہم جاری کیے جو نوشیروانی سِکّہ کے مشابہ تھے۔حضرت عمرفاروق ؓکے سِکّوں پر الحمد للّٰہ اور بعض سِکّوں پر محمد رسول اللّٰہ اور بعض پر لا الہ الا اللّٰہ وحدہٗ لکھا ہوتا تھا۔

حضرت عمر ؓ نے 20ہجری میں ملک کو 8صوبوں میں تقسیم کیا نیز اضلاع کی بھی تقسیم عمل میں لائے۔ حضرت عمر ؓ پہلے شخص ہیں کہ جنھوں نے نہایت موزوں اور متناسب حدود قائم کیے۔ بعد ازاں جو علاقے فتح ہوئے، ان کے صوبوں کے نام ویسے ہی رہنے دیے گئے، حضرت عمر ؓ کے دور حکومت میں اسلامی ریاست کے 14صوبے تھے۔ تمام صوبوں میں والی یعنی حاکم، کاتب، یعنی منشی، کاتب دیوان یعنی دفتر فوج کا منشی، صاحب الخراج یعنی محصول کلیکٹر، احداث یعنی پولیس افسر، صاحب بیت المال یعنی افسر خزانہ، قاضی یعنی منصف کو ذمہ داریاں سوپنی گئیں۔ صوبہ جات اور اضلاع کی تقسیم کے بعد سب سے مقدم کام ملکی عہدیداران کا انتخاب اور ان کی کارروائی کا دستور العمل بنانا تھا۔حضرت عمر ِؓ نے اس باب میں جس نکتہ رسی اور تدبر و سیاست سے کام لیا، انصاف یہ کہ تاریخ عالم کے ہزاروں ورق الٹ کر بھی اس کی نظیر نھیں ملتی۔الغرض حضرت عمر ؓ نے لوگوں کی رائے و مشاورت سے نہایت قابل اور دیانت دار عہدیداران کا انتخاب کیا اور ان کوملکی خدمتیں سپرد کیں۔زیاد ہ اہم خدمات کے لیے مجلس شوریٰ کا اجلاس منعقد ہوتا تھا اور جو شخص تمام ارکان مجلس کی طرف سے منتخب کیا جاتا تھا، وہ اس خدمت پر مامور ہوتا تھا۔ہر عہدیدار خاص طور پر والی (گورنر) سے عہد لیا جاتا تھا کہ i۔ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا۔ ii۔ باریک کپڑے نھیں پہنے گا۔ iii۔چھنا ہو اآٹا نہ کھائے گا۔ iv۔دروازے پر دربان نہ رکھے گا۔ v۔اہل حاجت کے لیے دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے گا۔ یہ شرائط مجمع عام میں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ حاکم کے فرائض کیا ہیں۔جس وقت کوئی عامل مقر ر کیا جاتاتھا اس کے پاس جس قدر مال اور اسباب ہوتا تھا اس کی مفصل فہرست تیار کراکے محفوظ رکھی جاتی تھی اور اگر عامل کی مالی حالت میں غیر معمولی ترقی ہوتی تھی تو اس سے مواخذہ کیا جاتا تھا۔عاملوں کی شکایات کے ازالے کے لیے ایک خاص عہدہ قائم کیا جس پر حضرت محمد بن مسلمہؓ انصاری مامور تھے۔ جب کسی عامل کی کوئی شکایت آتی تو حضرت محمد بن مسلمہؓ تحقیقات کرتے تھے۔ نیز تمام حکام کو حکم تھا کہ ہر سال حج کے زمانے میں حاضر ہوں، حج سے پہلے تمام علاقوں کے لوگ موجود ہوتے تھے، حضرت عمر ؓکھڑے ہو کر اعلان کرتے تھے کہ جس کسی کو کسی عامل سے کچھ شکایت ہوتو پیش کرے۔چناں چہ ذرا ذرا سی شکایات کی تحقیق کرکے ان کا تدارک کیا جاتا تھا۔ حضرت عمر فاروق ؓنے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ:”صاحبو! عمال جو مقرر کرکے بھیجے جاتے ہیں اس لیے نھیں کہ وہ تمھیں طمانچے ماریں یا تمھارا مال چھین لیں بلکہ میں ان کو اس لیے بھیجتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کا طریقہ سکھائیں۔ اگر کسی عامل نے اس کے خلاف کیا تو وہ مجھ سے بیان کرو تاکہ میں اس کا انتقام لوں ”۔

جب خلافت فاروقیؓ نے تمام صوبو ں میں مختلف عہدیداران کا تقرر کردیا تو حضرت عمر ؓنے قضاء یعنی عدالت کا محکمہ بالکل الگ کردیااور تمام صوبوں اور اضلاع میں عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقر ر کیے اس کے ساتھ قضاء کے اصول و آئین پر ایک فرمان بھیجا جس میں محکمہ قضا ء کے تمام اصولی احکام درج تھے۔۱۔قاضی کو تمام لوگوں کے ساتھ یکساں برتاؤکرنا چاہیے۔۲۔ بار ثبوت مدعی پر ہوگا۔۳۔مدعا علیہ اگر کسی قسم کا ثبوت یا شہادت نھیں رکھتا تو اس سے قسم لی جائے گی۔۴۔فریقین صلح کرسکتے ہیں۔۵۔قاضی فیصلہ کرنے کے بعد اس پر نظر ثانی کرسکتا ہے۔۶۔ مقدمہ میں پیشی کی تاریخ معین ہوگی۔۷۔پیشی پر اگر مدعا علیہ حاضر نہ ہو تو یک طرفہ فیصلہ ہوگا۔۸۔ہر شخص قابل ادائے شہادت ہے سوائے سزایافتہ اور جس کی جھوٹی گواہی ثابت ہو چکی ہو۔

حضرت عمر فاروق ؓنے تعلیم کو ترقی دی تھی۔ تمام مفتوحہ علاقوں میں ابتدائی مکاتب قائم کیے تھے جن میں قرآن مجید، اخلاقی اشعار اور امثال ِعرب کی تعلیم ہوتی تھی۔ علماء صحابہ اضلاع میں حدیث اور فقہ کی تعلیم کے لیے مقرر کیے جاتے تھے۔ مدرسین و معلمین کی تنخواہیں بھی مقرر تھیں۔مکاتب میں لکھنا بھی سکھایا جاتا تھا۔ نیز شہسواری اور فن سپہ گری کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے زراعت کی ترقی کی طرف بھی خصوصی توجہ د ی۔ حکم دیا جہاں جہاں بے آباد زمینیں ہیں جو شخص ان کو آباد کرے گا،اس کی ملکیت ہوگی۔ لیکن اگر کوئی شخص آباد کرنے کی غرض سے اپنے قبضے میں لائے اور تین سال تک آباد نہ کرے تو زمین اس کے قبضے سے نکل جائے گی۔کسی علاقے میں حملے کے وقت کچھ لوگ اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے ان کو واپس بلوا کر زمینیں کو ان کے قبضے میں دے دی گئیں۔حضرت عمر فارق ؓنے تمام مفتوحہ علاقوں میں نہریں جاری کیں اور بند باندھے۔تالاب تیار کروائے، نہروں سے پانی کی تقسیم کے دہانے بنوائے نیز اس کے لیے باقاعدہ ایک محکمہ قائم کیا۔ علامہ مقریزی نے لکھا ہے کہ اس مقصد کے لیے مصر میں ایک لاکھ بیس ہزار مزدور روزانہ سال بھر کام کرتے تھے۔

جدید تمدن میں بعض قومیں بچوں کی پیدائش کے ہی دن سے ان کے لیے وظائف مقرر کردیتی ہیں یہ عموماً اس زمانہ میں ہوتا ہے جب کسی خاص جنگی مصیبت وغیرہ کی بناء پر بچوں کی تعداد کم ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ حکومتیں بچوں کی نگہداشت اور ان کے لیے وظائف اس لیے مقرر نھیں کرتیں کہ یہ ان کا فرض ہے بلکہ اس لیے وظائف دیے جاتے ہیں کہ بچوں کی تعداد بڑھائی جا سکے لیکن حضرت عمر فاروق ؓ نے اس کام کو حکومت کا اولین فرض سمجھتے ہوئے اور بچوں کا بنیادی حق جان کر کیا۔حضرت عمر فاروق ؓکے دورِ حکومت میں بچے کی پیدائش سے ہی اس کا وظیفہ مقرر کرکے ادا کیا جاتا تھا۔لاوارث بچوں کی نگہداشت بھی حضرت عمر فاروق ؓ کی جدت طرازی ہے۔ جدید طرز کی حکومتیں بھی لاوارث بچوں پر توجہ نھیں کرتیں جو حضرت عمرؓ نے مبذول فرمائی تھی۔ آپ ؓ کے حیرت انگیز کارناموں میں یہ بھی ایک کارنامہ ہے کہ ان گزر حیات پر بے کس عالم میں پڑے ہوئے اطفال کی دینی اورعمومی تربیت کے لیے آپ ؓ نے باضابطہ ادارے قائم کیے۔ آج کی تمدن آشنا حکومتیں ان بے خطا ؤ ں کے لیے حکومت کے خزانے میں کوئی حق تسلیم نھیں کرتیں حضرت عمر فاروق ؓ نے لاورث بچوں کو کچھ مدت وظائف دیتے بعد ازاں سن بلوغت کو پہنچتے تو انھیں کچھ رقم مل جاتی جس کی بنیاد پر وہ کوئی کاروبار شروع کردیتے تھے۔حضرت عمر فاروق ؓ اس نظام کے بھی موجد ہیں جس کی رو سے حکومت کے خزانے کو عوام الناس کی معاش کی ضمانت دینی پڑتی ہے۔ حضرت عمرؓ کا یہ مستقل خیال تھا جس پر وہ سختی سے قائم تھے کہ حکومت جو وظائف دیتی ہے یہ عوام پر کوئی احسان نھیں ہے بلکہ یہ افراد قوم کا خزانہئ قوم پر حق ہے۔ آپؓ کا قول ہے کہ:

”اگر میں زندہ رہ گیا تو ایک چرواہے کو بھی اس سے پہلے کہ اس کا چہرہ اپنے مقرر عطیے کے نہ ملنے سے سرخ ہوجائے، اس کا حق بیت المال سے مل جایا کر ے گا“۔

  حضرت عمر فاروق ؓ یکم محرم الحرام 24ہجری 6نومبر 644ء کو جامِ شہادت نوش کرتے ہوئے واصلِ بہ حق ہوئے۔ مدینہ منورہ میں حضور نبی کریم ﷺ روضہ انور میں آسودہ خاک ہیں۔ حضرت عمرؓکی شہادت سے ایک دور تاب ناک ختم ہوگیا، ایک عہد زریں گزر گیا، جس سے زیادہ تاب ناک اور زریں عہد، آنحضرت ﷺ کے وصال سے قیامت تک، جب تک دنیا باقی ہے، پھر نہ آ سکے گا۔ مسلمانوں کی تاریخ میں کسی ایک ایسے خلیفہ کی مثال نھیں ملتی، اور نہ آئندہ اس کا امکان ہے، جو عہدِ فاروقی ؓ سے مشابہت رکھتا ہو، زہد، نیکی، اور تقویٰ کی رُو سے حضرت عمر فاروق ؓکو ان تمام خلفاء اور سلاطینِ اسلام پر فوقیت مطلق حاصل ہے جنھوں نے اسلام کی تاریخ بنائی ہے۔ اسی طرح حضرت عمر فاروق ؓسے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے احکامات اور فرامین کے نفاذ اور اجراء میں کسی ایک شخص نے بھی اتنی جرأت کا ثبوت نہ دیا تھا۔یہ انتظامی کمال نہ دکھایا تھا۔چناں چہ حضرت عمرؓ کے وصال کے وقت اللہ کی زمین پر رہنے والا ایک بھی ذی نفس آپ کا قرض خواہ یا آپ کا زخم خوردہ نہ تھا۔حضرت علی ؓ نے عالی منش حضرت عمر ؓ کے کفن کا کپڑا ہٹا کر فرمایا :”صلی اللّٰہ علیک یعنی آپ پر اللہ کا درود ہو، و اللہ کہ اس دنیا میں سوائے اس کفن پوش کے آج کوئی شخص ایسا نھیں جس کے اعمال نامہ پر مجھے رشک آجائے“۔ حضرت عمر ؓ کے چچا زاد بھائی حضرت سعیدؓ بن زید بن عمرو سے جب پوچھا گیا کہ آخر وہ حضرت عمرؓ کی موت پر اتنا کیوں رورہے ہیں تو انھوں نے جواب دیا تھا کہ:”وہ عمرؓ پر نھیں بلکہ اسلام پر رو ر ہے ہیں جس میں اس موت سے شگاف پڑ گیا ہے“۔حضرت ابو طلحہ انصاری ؓ نے فرمایاکہ”عرب میں ایسا گھر کوئی نھیں تھا جس کا نظام شہادتِ عمر ؓ سے درہم برہم نہ ہوا ہو“۔حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ نے فرمایاکہ:”حضرت عمرؓ کی موت سے تمام شعبے اور ستون متاثر ہو گئے“۔حضرت عثمان غنی ؓ نے تین بار اس جملے کا اعادہ فرمایاکہ:”ہم میں کون ہے جو عمرؓکی برابری کرے“۔ اخلاق احمد ساغر ”نوائے درد“

No comments:

Post a Comment